لاہور(میاں عمران ارشد سے) متحدہ عرب امارات کی جانب سے تحفے میں ملنے والی440میگا واٹ اربوں روپے مالیت کی 13پاور جنریشن ٹربائینز 6برس گزرنے کے باوجود استعمال ہونے کے بجائے ناکارہ بنادی گئیں۔نیس پاک کی فیزیبلٹی رپورٹس کے مطابق مذکورہ ٹربائینز 2038تک کارآمد تھیں اورقدرتی گیس کے ساتھ ساتھ ہائی سپیڈ ڈیزل پربھی چلائی جاسکتی تھیں۔منسٹری آف واٹر اینڈ پاور کی جانب سے مذکورہ ٹربائینز کو پہلے سے چلنے والے ’’ گیس ٹربائین پاور اسٹیشن‘‘(GTPS)فیصل آباد میں نصب کرنے کافیصلہ کیا گیا تھا اور اس کو2013میں ہی ’’فاسٹ ٹریک‘‘منصوبہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ 18ماہ سے36ماہ کے مختصر عرصے میں مکمل ہونے کے بجائے منصوبی تاخیر کا شکار ہی نہیں بلکہ ابھی تک نقطہ آغاز پر ہی موجود ہے۔

نیو نیوزاور نئی بات کی حاصل کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبہ نیشنل گریڈ میں 440میگا واٹ اضافی بجلی شامل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ تحفے میں ملنے والی مشینری معمولی اصلاح اور مرمت کے ساتھ 25برس تک کار آمد ہے اور سارا سال 440میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دستاویزات کے تفصیلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ منصوبہ صرف 192.3ملین کے اخراجات کے بعد فنگشنل ہو سکتا تھا۔ جس کی بنیادی وجہ مفت میں ملنے والی5’’فریم 5‘‘ اور 8’’فریم6‘‘کی ٹربائینز اور مکمل طور پر دستیاب ’’انفراسٹرکچر‘‘ہے۔

اربوں روپے کہ مذکورہ ٹربائینز کے حوالے سے جب متعلقہ ذمہ داران سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس قدرتی گیس کی کمی ہے ،اس لئے مذکورہ ٹربائینز کار آمد نہیں ہے۔اسی بیان کے برعکس ایک جانب اپریل 2014میں وزیر اعظم پاکستان نے گُڈو پاور پلانٹ جوکہ کوئلے سے چلتا ہے میں 486میگا واٹ کی 2گیس پاور ٹربائینز کا اضافے کے بعد افتتاح کیا۔ اسی طرح اکتوبر 2016میں بھی مظفرگڑھ میں 1200میگا واٹ کے گیس پاور پلانٹ کی تنصیب کی خاطر محکمہ پانی و بجلی نے بولی مانگ لی ہے۔تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ تحفے میں ملنے والی 13ٹربائینز کو ان دونوں منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ مذکورہ پاور پلانٹ کے لئے قدرتی گیس دستیاب ہے۔

محکمہ پانی و بجلی کے اعلیٰ حکام عام انتخابات2018 سے قبل مزید 10ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گریڈ میں شامل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کر چکے ہیں۔ جس کے لئے کوئلے اور قدرتی گیس پر چلنے والے مزید پاور پلانٹس نصب کئے جائیں گے لیکن تحفے میں ملنے والی اربوں روپے کی ٹربائینز کو ناکارہ بنادیا گیا ہے ۔ماہرین کے مطابق نئی خریداری میں بڑی تعداد میں کمیشن کا معاملہ بھی ہوتا ہے جوتحفے میں ملنے والی ٹربائینز میں نہیں ہے۔
نیس پاک کی فیزیبلٹی رپورٹس پڑھیں
