اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے 250 سے زائد عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک اہم ورچوئل اجلاس منعقد کیا، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، جاری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران وزیرِ خزانہ نے عالمی سرمایہ کاروں کو بتایا کہ پاکستان اس وقت اصلاحات پر مبنی جامع معاشی ایجنڈے پر گامزن ہے، جس کا بنیادی مقصد مالیاتی نظم و ضبط اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف (IMF) پروگرام میں ہونے والی مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہم اہداف کی تکمیل حکومت کے مضبوط معاشی عزم کی عکاس ہے۔
حکومت نے معیشت کے مختلف شعبوں میں جاری اصلاحات کے بارے میں سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا۔ ٹیکس کے نظام میں بہتری اور توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اداروں کی نجکاری اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے 'رائٹ سائزنگ' کی پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے۔ کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے شفاف ڈیجیٹل سبسڈیز کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ مالی ذمہ داری اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیرِ خزانہ نے عالمی مارکیٹ کو یقین دلایا کہ پاکستان اپنی تمام بیرونی مالی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے یورو بانڈ اور سکوک بانڈز کا اجرا بھی زیرِ غور ہے۔ حال ہی میں یورو بانڈز کی ادائیگیوں کا تسلسل پاکستان کی مالی ساکھ کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
پاکستان کو علاقائی لاجسٹکس اور میری ٹائم حب کے طور پر پیش کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے زراعت، معدنیات، کان کنی اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کو اجاگر کیا۔ مزید برآں، ڈیجیٹل فنانس اور ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
اجلاس میں شریک 250 سے زائد عالمی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان کی معیشت میں ہونے والی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا اور ملک میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ سرمایہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور استحکام ناگزیر ہے۔