فلوریڈا : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر کیے گئے حالیہ امریکی حملے بڑی کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئے ہیں اور ان سے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملوں میں جانوں کے نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے لاطینی امریکی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں 42 ایرانی بحری جہاز تباہ کر دیے گئے اور ملک کی فضائی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس سے قبل امریکی کارروائیوں میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ ملک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے اس مہم کو ایران کی فوجی صلاحیت پر فیصلہ کن دھچکا قرار دیا۔
صدر نے کہا، "جنگوں میں جانی نقصان ہوتا ہے، مگر ہماری کوشش ہے کہ یہ کم سے کم ہو۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران پر یہ کارروائی صرف مشرق وسطیٰ کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے بھی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکی حکومت منشیات فروش گروپوں کے خلاف ایک نیا فوجی اتحاد قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ دہشت گردی اور جرائم پر قابو پایا جا سکے۔
صدر نے سوشل میڈیا پر بھی بیان جاری کیا کہ ایران شدید نقصان اٹھا رہا ہے، پڑوسی ممالک سے معافی مانگی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ مزید حملے نہیں کرے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران مشرق وسطیٰ پر قبضہ کر کے وہاں حکومت قائم کرنا چاہتا تھا، لیکن مسلسل امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں نے اسے یہ وعدہ کرنے پر مجبور کر دیا۔