Get Alerts

فاٹا کے انضمام پر قوم سے جھوٹ نہ بولا جائے، مولانا فضل الرحمان

فاٹا کے انضمام پر قوم سے جھوٹ نہ بولا جائے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملے میں تقاضوں کو مشکل بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ختم نبوت کے حوالے سے چیزیں شامل کرنے کی کوشش کی گئی اور ہر ممبر کا فرض ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے معاملے کا نوٹس لے۔ اس میں نقب لگانے کی کوشش کی گئی اس لیے ذمہ دار کوتلاش کرنا چاہیے جو چاہے کلرک ہو یا وزیر اس کا احتساب ہونا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے مسئلے کا ذکر تو کیا جارہا ہے لیکن اس پر ایوان کے موڈ کا کچھ پتا نہیں۔ فاٹا کے معاملے پر ہمارا مؤقف 2012 سے ایک ہے اور 2012 کے جرگے میں تین مختلف تجاویز سامنے آئی تھیں لیکن 16 دسمبرکو 5 ہزار قبائلی نمائندوں نے گرینڈ جرگے میں فیصلہ کیا کہ قبائل کے مستقبل کا فیصلہ یہ جرگہ کرے گا۔

جے یو آئی (ف) کے امیر کا کہنا تھا کہ اگر قبائل کی مرضی سے فیصلہ ہوا تو عالمی فورم پر بھی کسی تنازع کی صورت میں مضبوط حوالہ موجود ہو گا۔ ہم اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے سوچ رہے ہیں اور ہمارا زاویہ الگ آپ کا زاویہ الگ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرگے میں قرارداد منظور کی گئی کہ قبائل کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ قبائل خود کریں گے اس لیے قبائل کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کے لیے قبائل سے پوچھا جائے اور قبائل سے ان کی خواہش پوچھنے میں کیا گناہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ آپ نے ابھی انضمام نہیں کیا لیکن وہ اقدامات کر رہے ہیں جس کا مطلب انضمام ہی ہے اگر اس حوالے سے فیصلہ کر لیا ہے تو لوگوں کو بتائیں اور عوام سے جھوٹ نہ بولیں۔

انہوں نے فاٹا کے معاملے پر جرگہ بلانے کی تجویز بھی دیدی۔ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تحریک اںصاف کے سربراہ عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صحافی کے ایک سوال کے جواب میں کہا حکومت نہیں مل رہی تو اپوزیشن لیڈر ہی سہی اور ساتھ ہی یہ شعر بھی پڑ ڈالا 'نماز عشق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی'

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں

ٹیگز: