خانیوال کس کا۔۔؟

Najam Wali Khan, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر جیت کر فارورڈ بلاک بنا لینے والے رکن پنجاب اسمبلی نشاط ڈاہا کے تہتر برس کی عمر میں انتقال کے بعد ان کی نشست پی پی 206 پر کل جمعرات کے روز انتخاب ہو رہا ہے۔ اس الیکشن کی بڑی وجہ شہرت یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون جبکہ مسلم لیگ نے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے۔ میں گذشتہ روز لاہور کراچی موٹر وے کے ذریعے جب خانیوال پہنچا تو مجھے لاہور رنگ کے نمائندہ، خانیوال کے معتبر ترین صحافی رانا ریاست کے پاس پہنچنا تھا۔میں جب ریلوے اسٹیشن کے انڈر پاس او رمختلف بازاروں سے ہوتا ہوا ان تک پہنچا تو شہر کی صفائی ستھرائی پر خاصا حیران تھا۔ میں نے پوچھا ، کیا واقعی خانیوال اتنا صاف ستھرا شہر ہے کہ کسی ایک جگہ بھی کوڑے کا ڈھیر نظر نہیں آ رہا، وہ جواب میں مسکرائے اور بولے، الیکشن کی وجہ سے ہر روز کوئی نہ کوئی وزیر ، مشیر خانیوال پہنچتا ہے اور اسی وجہ سے خصوصی صفائی ہور ہی ہے۔ ان کی وضاحت سے کچھ تسلی ہوئی مگر میں یہ ضرور سوچتا رہا کہ لاہور میں تو خود وزیراعلیٰ اور پوری کابینہ ہوتی ہے، یہاں صفائی کیوں نہیں؟
چلیں لاہور کے رونے چھوڑیں کہ یہ تو روئے ہی جاتے رہیں گے، خانیوال کی بات کرتے ہیں۔ میری وہاں نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے علاوہ تحریک لبیک اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ میں نے جانا اور سمجھا کہ خانیوال میں سیاسی جماعتوں سے زیادہ دھڑوں کی سیاست ہے۔ پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر نشاط ڈاہا خاندان یا مسلم لیگ نون کے رانا سلیم حنیف کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کر لیا جائے تو وہ کئی کئی بار جماعتیں بدلتے نظر آتے ہیں۔ نشاط ڈاہا نے غالباً اس حوالے سے ایک ریکارڈ قائم کیا۔ نورین نشاط کہہ رہی تھیں کہ ان کے مرحوم شوہر نے ہمیشہ عوام کی سیاست کی۔ ان کا موقف تھا کہ مسلم لیگ ن نے خانیوال کو کچھ نہیں دیا مگر نشاط ڈاہا فارورڈ بلاک بنا کر خطیر فنڈز لائے۔ میں نے ان کی توجہ موٹر وے کی طرف دلوائی مگر انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں موجودبیسیویں غریب خواتین کے چہرے دکھاتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ کیا ان غریب اور مجبور لوگوں کو اورنج لائن اور موٹرویز چاہئیں یا روٹی، تعلیم، صحت اور روزگار۔ وہ وعدہ کر رہی تھیں کہ کامیاب ہوئیں تو ؑ خانیوال میں زرعی یونیورسٹی بنوائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نشاط ڈاہا نے اس وقت فارورڈ بلاک بنایا جب نواز شریف ملک چھوڑ گئے، وہ سوال کر رہی تھیں کہ لیڈر ہی ملک سے فرار ہو جائے تو کیا کارکن ماریں کھانے کے لئے رہ جائیں؟
جب مسلم لیگ نون نے رانا سلیم حنیف کو ٹکٹ جاری کیا تھا تو مریم نواز صاحبہ کے قریبی ٹویپس نے ان کی بہت بھد اڑائی تھی اور کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کا امیدوار ہی لینا تھا تو نظرئیے کا چورن بیچنے کی کیا ضرورت تھی۔ میری رانا سلیم حنیف سے مسلم لیگ (ن) ہاؤس خانیوال میں ملاقات ہوئی۔ رانا سلیم کی گفتگو آپ نے گذشتہ رات خانیوال کے ضمنی الیکشن پر دوسرے دن کے پروگرام میں تفصیل سے سنی ہوگی، وہ کسی بھی پکے نواز لیگی کی طرح حکمرانوںپر برستے ہیں،پوچھا، آپ نے عثمان بزدار کو چھوڑ دیا جو جنوبی پنجاب کا بیٹا ہے، وہ تڑپ کر بولے یہ جنوبی پنجاب کا جعلی بیٹا ہے۔ اس نے کسان کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ وہ ڈی اے پی کی بوری دس ہزار روپوں سے بھی اوپر جانے اور اب یوریا کے بلیک ہونے کی شکایت کررہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ مہنگائی نے عام آدمی کو زندہ درگو ر کر دیا ہے۔ میں نے نورین نشاط اور رانا سلیم سے ملاقات کے بعد اندازہ لگایا کہ دونوں بڑی جماعتوں نے زمینی حقائق کے عین مطابق امیدوار چنے ہیں۔ بتایا جا رہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نورین نشاط کے علاوہ کسی اور کو امیدوار بناتی تو بری طرح ہار جاتی کہ خانیوال نواز لیگ کا شہر ہے اور جب تین برس پہلے پی ٹی آئی نئے پاکستان کے نعرے اور تبدیلی کی ایک بڑی لہر کے ساتھ آئی تھی تب بھی نشاط ڈاہا شیر کے نشان پر ہی جیتے تھے۔ صوبے بھر کی طرح خانیوال میں بھی لوکل باڈیز کی بحالی ہوئی ہے۔ نشا ط ڈاہا کے ساتھ چوالیس میں سے چونتیس کونسلر تھے مگر ان کی وفات کے بعد پانسہ پوری طرح پلٹ گیا ہے اور اب چوالیس میں سے چونتیس کونسلروں نے مسلم لیگ نون کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جوخانیوال کے مزاج کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہ دلچسپ صورتحال تھی کہ جب پی ٹی آئی نے نورین نشاط ڈاہا کو ٹکٹ جاری کی تو انہوں نے اپنے پہلے بینروں اور پوسٹروں پر عمرا ن خان کی تصویر ہی نہیں لگائی جس کی نشاندہی خانیوال کے صحافیوں نے کی۔اس نشاندہی پرلاہور سے پوسٹرز او ربینرز تیار کروا کے خانیوال پہنچائے گئے جن پر خان صاحب مسکرا رہے تھے۔
کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار کی مہم بھی اس وقت تک ٹھنڈی ماٹھی تھی جب تک بلاو ل ہاؤس سے پیپلزپارٹی کی کمک اورکمانڈ نہیں پہنچی۔یہ کمک اور کمانڈ اتنی زبردست تھی کہ شہر کا ہر چوک ، چوراہا اور کھمبا پیپلزپارٹی کے جھنڈوں اور بینروں سے رنگا رنگ ہوا پڑا ہے مگر پی پی پی اپنے ووٹر کو پوری طرح واپس نہیں لاسکی اور یوسف رضا گیلانی کے جلسے میں بھی پانچ سو کرسیاں اسی طرح بھری گئیں جس طرح لاہور میں ووٹ لئے گئے۔ پیپلزپارٹی کے میر واثق سرجیس حیدر کہہ رہے تھے کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے خانیوال کو کچھ نہیں دیا لہٰذا جیالا اب واپس لوٹ رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خانیوال میں پیپلزپارٹی کا رزلٹ لاہور سے بھی زبردست ہو گا مگر مجھے ان کے دعوے پر کچھ زیادہ یقین نہیں آیا۔ دعویٰ تو تحریک لبیک کے شیخ اکمل کا بھی ہے کہ خانیوال کاسیونٹی فائیو پرسنٹ ووٹر ان کے ساتھ ہے او رباقی پچیس فیصد میں سے زیادہ تر پی ٹی آئی اور کچھ کم نواز لیگ لے جائے گی۔ وہ مطمئن ہیں کہ تحریک لبیک بہت بڑی پارٹی بن کے ابھرے گی کیونکہ جماعت اسلامی نے بھی خانیوال میں ان کی حمایت کر دی ہے۔
خانیوال کے مین بازار میں خانیوال کے سینئر ترین صحافیوں رانا ریاست، طارق شہزاد اورعبداللطیف کے ساتھ حاجی ارشد کے تہلکہ خیز حلوے کھانے کے بعد جب میں دونوں بڑے چوکوں’گپی والا‘ اور بانساں والا ‘ پہنچا تو ’خانیوالیوں‘کی اکثریت مہنگائی سے شدیدتنگ نظر آئی۔ بنیانیں بیچنے والے محنت کش نے شکوہ کیا کہ اس نے تبدیلی آنے کے بعد اپنے بچوں کو سکول سے اٹھا لیا ہے کیونکہ صرف اس کے دو، تین سو روپے کمانے سے گھر کا خرچ پور انہیں ہوتا جب بچوں کو بھی کمانا ہو گا۔ ریڑھی یونین کے صدر کی زبردست گفتگو کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، وہ نوجوان کہہ رہا تھا کہ اس نے تین برس پہلے تبدیلی کی مکمل حمایت کی تھی او رعمران خان کے نعرے لگائے تھے مگر اب وہ اپنے اس گناہ کبیرہ پر شرمندہ ہے او ر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اب وہ شیر، شیر کے نعرے لگا رہا ہے تو نواز لیگ نے تو خود پی ٹی آئی کا امیدوار لے لیا ہے، وہ مسکرایا او ربولا، رانا سلیم بھی اپنے اس گناہ پر اسی طرح شرمندہ ہے جس طرح وہ خود ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ خانیوال بے روزگاروں کا شہر ہے،یہاں کوئی انڈسٹری اور کوئی روزگار نہیں، یہاں کے نوجوانوں کی اکثریت پڑھے لکھے ہونے کے باوجود موٹرسائیکل رکشے چلاتی ہے یا ریڑھیاں لگاتی ہے۔ میں نے کیمروں کے سامنے جمع ہوجانے والوں سے پوچھا کہ وہ کس کے ساتھ ہیں تو جواب میں ’آیاآیا شیر آیا‘ کے نعرے لگنے لگے۔