کراچی: تاجر رہنما ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ معیشت کی ترقی سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے، اور اسی کے ساتھ ملک میں اقتصادی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے یہ بات پریس کانفرنس کے دوران کہی، جہاں انہوں نے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔
ایس ایم تنویر، جو کہ پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس گروپ اور صدر ایف پی سی سی آئی ہیں، نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں معیشت کے حوالے سے حکومت نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا مقصد اہم ہے، اور اس کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمت 48 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 31 روپے فی یونٹ تک آ چکی ہے، تاہم مزید کمی کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، پالیسی ریٹ میں کمی کا بھی ذکر کیا جو 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا ہے۔
ایس ایم تنویر نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا ہے، اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم، موجودہ اقتصادی حالات میں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کے مسائل سنگین ہیں، جنہیں جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس 4 سے 5 ٹریلین ڈالر کے قدرتی ذخائر ہیں، لیکن ہم ان سے بھرپورمستفید نہیں ہوپا رہے۔ ایران کے ساتھ سرحد قریب ہونے کے باوجود وہاں موجود تیل اور معدنیات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ایس ایم تنویر نے امریکہ کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر علاقے میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں، مگر زرعی پیداوار میں ہم دنیا کے دوسرے ممالک سے پیچھے ہیں۔ معیشت کی بہتری کے لیے برآمدات کے فروغ کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔
ایس ایم تنویر نے یہ بھی کہا کہ این ایف سی کے تحت وفاق کا حصہ 42 فیصد ہے، جبکہ صوبوں کا حصہ 58 فیصد ہے، مگر صوبوں کو ملنے والا حصہ نیچے منتقل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام ان مسائل کا حل نکالنا ہے، جو تاجر برادری کی نشاندہی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ملک کی آبادی 4 کروڑ تھی تو ملک کے 4 صوبے تھے، اور آج 25 کروڑ کی آبادی ہے لیکن صوبے وہی ہیں۔ بھارت اور چین کے مقابلے میں ہمیں اپنی معیشت مضبوط کرنا ہوگی تاکہ ہم عالمی سطح پر ترقی کر سکیں۔