اسٹیبلشمنٹ کے دونوں بڑے چاہتے تھے نوازشریف کو مضبوط حکومت ملے لیکن نیچے والے نہیں مانے : سینئر صحافی 

اسٹیبلشمنٹ کے دونوں بڑے چاہتے تھے نوازشریف کو مضبوط حکومت ملے لیکن نیچے والے نہیں مانے : سینئر صحافی 
سورس: File

لاہور : سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے دونوں بڑے چاہتے تھے نواز شریف کو مضبوط حکومت ملے لیکن نیچے والے نہیں مانتے۔ 

انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ الیکشن سے چند دن پہلے مقتدرہ نوازشریف کو مضبوط حکومت دینے پر آمادہ تھی۔ معیشت کی ترقی کیلئے بنگلہ دیش ماڈل بنا کر مقتدرہ اور عدلیہ کی مکمل حمایت اسے دینا تھی مگر مقتدرہ کے منصوبے اور اندازے دونوں ناکام ہوئے۔

سہیل وڑائچ نے لکھا کہ اصل وجہ مقتدرہ کایک جان نہ ہونا اور بار بار منصوبے بدلنا تھی کبھی آزاد امیدواروں کا میلہ لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو کبھی ہنگ پارلیمنٹ کی۔ کبھی نون کوسب کچھ دینے کی بات کی جاتی اور کبھی کہا جاتا کہ دوائی زیادہ ڈل گئی تو نون کو روکیں گے کیسے ؟کبھی کہا جاتا کہ وہ تو ماضی میں کبھی مقتدرہ سے لڑتا رہا ہے اس بار بھی لڑے گا اس لئے بندوبست پہلے سے کر لینا چاہئے۔

انہوں ںے کہا کہ مقتدرہ کے دو بڑے تو چاہتے تھے کہ وہ آئے اور مضبوط حکومت چلائے لیکن دو بڑوں کے نیچے والے اس حکمت عملی سے متفق نہیں تھے وہ چیک اینڈ بیلنس کے زیادہ حامی تھے۔ مقتدرہ کے بدلتے ہوئے فیصلوں نے اسے لازماً مایوس کیا ہو گا اسی لیے نواز شریف روٹھ کے بیٹھ گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں