اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اروناچل پردیش سے متعلق چین کی رپورٹس کی حمایت کرتا ہے اور چین کی خودمختاری اور سالمیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پورے خطے کو جنگ کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی گئی، جس پر پاکستان نے دفاعی حکمت عملی کے تحت بھارتی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن اپنے دفاع میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی حملے کا مؤثر جواب دیتے ہوئے پاک فضائیہ کے ذریعے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت نے نہتے شہریوں پر حملے کیے، جس پر پاکستان نے اپنے دفاع میں بھرپور کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دینے میں اپنی جوابی صلاحیت کو ثابت کیا، جس سے خطے میں طاقت کا توازن قائم ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہا ہے، جسے پاکستان نے مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔ اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو پاکستان بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔شفقت علی خان نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو خطے کے امن کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کشمیر سے متعلق بیان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہر بات چیت میں کشمیر کا مسئلہ شامل ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے کہا کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی موجودہ صورتحال ایک مثبت پیشرفت ہے اور دونوں ممالک کی افواج مسلسل رابطے میں ہیں۔
پاکستانی ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور برطانوی سیکرٹری خارجہ اس وقت پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی طرح کی بات چیت سے نہیں ہچکچاتا، کیونکہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پوری دنیا کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔