Get Alerts

کل کا الیکشن غیر آئینی ہے، حمزہ کو وزیراعلیٰ نہیں مانتے : پرویز الہٰی 

کل کا الیکشن غیر آئینی ہے، حمزہ کو وزیراعلیٰ نہیں مانتے : پرویز الہٰی 

لاہور : سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ کل بوگس، غیرآئینی اور متنازعہ الیکشن کروایا گیا۔ کل کے الیکشن کو گورنر پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پہلے ہی متنازعہ قرار دے چکے ہیں۔ یہ ایک آئینی مسئلہ ہے جب تک واضح صورتحال سامنے نہیں آتی تب تک اس کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ 

  

 سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس  ہوا ہے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے  چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ  ن لیگ کی اوچھی حرکتوں نے ثابت کر دیا کہ انہوں نے ابھی تک پرانے کام نہیں چھوڑے۔  ماضی میں عدالتوں پر حملہ کیا اب پنجاب اسمبلی پر دھاوا بول دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کل جو کچھ پنجاب اسمبلی کے فلور پر ہوا پنجاب کی پارلیمانی تاریخ میں ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا۔ پولیس ایسے آئی جیسے ڈاکوؤں پر حملہ کرنے آئے ہیں۔یہ سب کچھ حمزہ شہباز کی سربراہی میں ہوا۔ ان کا ٹارگٹ تھا کہ پی ٹی آئی اور ہمارے ایم پی ایز کو ڈرا کر ایوان سے باہر نکالا جائے۔ 

چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے گیلری میں کھڑے ہو کر الیکشن کروایا جس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔  مہمانوں کی گیلری میں میگا فون پکڑ کر تو کوئی بھی الیکشن کروا سکتا ہے۔اجنبیوں کی جگہ بیٹھ کر ایک اجنبی نے الیکشن کروایا۔ یہ کیسا الیکشن ہے جس میں وزیراعلیٰ کے امیدوار کو زخمی کر دیا اور ان کی غیر موجودگی میں الیکشن کروا لیا۔ 

انہوں نے کہا کہ جس گیلری میں ہمارے ارکان نے جانا تھا اس کو پولیس کے ذریعے بلاک کر دیا گیا۔ جس طرح انہوں نے جعلی الیکشن کروایا اسی طرح کوئی جعلی گورنر ڈھونڈ کر جعلی حلف بھی لے لیں۔ہم نے آئینی ماہرین کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔اس غیر آئینی الیکشن کو چیلنج کرنے کیلئے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ 

پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ ہم نے کل جو درخواست دی ابھی تک اس پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا جبکہ ان کی درخواست پر کل رات ہی مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔میں ان ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ایوان میں ڈٹ کر ان غنڈوں کا مقابلہ کیا۔میں خواتین ارکان اسمبلی کی ہمت کو بھی داد دیتا ہوں جو آخر وقت تک اپنی جگہ ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ 

اجلاس میں سردار عثمان بزدار، مونس الٰہی، حسین الٰہی، شفقت محمود، راجہ بشارت ، حافظ عمار یاسر، چودھری ظہیرالدین، میاں شفیع محمد، میاں محمود الرشید ،میاں اسلم اقبال، پیر سید سعید الحسن شاہ، وسیم خان بادوزئی ،خیال کاسترو، ندیم قریشی، پیر اشرف رسول ،امبر محمود خان، سماویہ طاہر، سبرینہ جاوید، فرح آغا، شاہدہ ساجد،  سبین، عائشہ اقبال، زیبہ عمر، سعدیہ سہیل، آسیہ امجد، سمیرہ بخاری، مومنہ وحید، آسیہ احمد، فرحت فاروق اور خدیجہ عمر  نے شرکت کی۔