نئی دہلی : بھارت کی ریاست اتر پردیش میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتیں مختلف اضلاع سے رپورٹ ہوئی ہیں اور ان میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعات مون سون بارشوں کے آغاز کے بعد پیش آئے، جب شدید گرج چمک کے دوران لوگ کھلے میدانوں اور کھیتوں میں موجود تھے۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں پریاگ راج، کوشامبی، فتح پور اور رائے بریلی شامل ہیں۔
ریاستی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ افراد میں زیادہ تر وہ لوگ شامل تھے جو روزمرہ کے کاموں کی انجام دہی کے دوران باہر موجود تھے۔ مرنے والوں کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ شمالی بھارت میں مون سون کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات عام ہوتے ہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔ خاص طور پر بجلی کی گرج کے دوران کھیتوں میں کام کرنے، درختوں کے نیچے کھڑے ہونے اور پانی والی جگہوں پر موجودگی سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے اگلے چند دنوں میں مزید بارشوں اور گرج چمک کی پیش گوئی کی ہے، جس کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔