آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کی صورتحال کے تناظر کی گئی، وزیرخارجہ

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کی صورتحال کے تناظر کی گئی، وزیرخارجہ
کیپشن: Image Source: File Photo

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی  مدت ملازمت میں توسیع سے دنیا کے سامنے ایک واضع پیغام ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم نے اپنا آئینی اختیار استعمال کیا۔

 

وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں اصل حقائق اس وقت سامنے آئیں گے جب کرفیو اٹھے گا۔

 

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا نے کہا کہ  وزیراعظم کا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خوش آئند ہے، پاکستان کے موجوہ حالات میں آرمی چیف وقت کی ضرورت ہیں۔

 

وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ  آرمی چیف کی عہدے میں توسیع کا نوٹیفیکیشن موجودہ سیکیورٹی حالات کی سنجیدگی کا ادراک ہے۔

 

 مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد میں ہے، ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے، حالت جنگ میں کمانڈر کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔

 

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق وزیراعظم کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت جنگ کی صورتحال میں ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن ہو، افغانستان میں امن ہو گا تو اس کا فائدہ پاکستان کو ہو گا۔