سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر 14 سال تک سزا ہو سکتی ہے،سائفر میں کیا کھیل کھیلا گیا یہ اب کوئی راز نہیں رہا:اعظم نذیر تارڑ

سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر 14 سال تک سزا ہو سکتی ہے،سائفر میں کیا کھیل کھیلا گیا یہ اب کوئی راز نہیں رہا:اعظم نذیر تارڑ

اسلام آبا د :وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر 14 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔


انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ  چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر 14 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔ سائفر کیا تھا اور اس میں کیا کھیل کھیلا گیا یہ اب کوئی راز نہیں رہا۔

 سابق وزیراعظم کا کھیل تو کامیاب نہ ہو سکا لیکن ملک معیشت اور اداروں کو نقصان پہنچایا گیا، ملکی اداروں کو جو نقصان پہنچایا گیا وہ سنگین ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سائفر سابق وزیراعظم نے تحویل میں لیا اور کبھی نہیں لوٹایا۔  بے دریغ طریقے سے قومی سلامتی کو پس پشت ڈال کر سائفر استعمال کیا گیا، وفاقی حکومت نے یہ معاملہ ایف آئی اے کو بھیجا تھا، سابق وزیراعظم نے جواب دینے کے بجائے طلبی کو چیلنج کر دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ کا اسٹے آرڈر وفاقی حکومت کی درخواست پر ختم ہوا۔


 حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سائفر کا معاملہ ایف آئی اے کو بھیجا، سائفر معاملے کی تحقیقات مکمل طور پر میرٹ پر ہو گی، سائفر کا معاملہ زیر تفتیش ہے اور اس میں اہم گواہ آ گئے ہیں۔


 سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا بیان سامنے آیا ہے، اعظم خان کے بیان کو قانونی تحفظ حاصل ہے، انہوں نے بیان مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کرایا ہے۔ اعظم خان کے بیان سے واضح ہے کہ سابق وزیراعظم نے سائفرن کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا، ایف آئی اے نے سائفر کے معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو 25 جولائی کو طلب کیا ہے۔ اعظم خان کا بیان آفیشل سیکرٹ نہیں اور نا ہی اس کی کاپی لیک ہونے کا میں ذمہ دار ہوں۔


انہوں نے بتایا کہ ذاتی مقاصد کے لیے سفارتی دستاویز کو گم کیا جائے تو اس پر عمر قید اور اس سے زائد سزائیں بھی ہیں، سائفر کو اگر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو 14 سال تک سزا ہو سکتی ہے لیکن غلطی سے اگر کوئی سائفر جیسا ایشو ہو تو 2 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔


ان کا کہنا تھا آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ڈی کے تحت سویلینز کا مخصوص حالات میں فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، ماضی میں بھی فوجی عدالتوں میں کیس چلائے گئے، آرمی ایکٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔

مصنف کے بارے میں