کابل :افغان جرنلسٹس سینٹر نے افغانستان میں میڈیا کی صورتحال پر ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق طالبان دورِ حکومت میں صحافیوں کو شدید دباؤ، تشدد اور بدترین سنسرشپ کا سامنا ہے، جس نے ملک میں آزادیٔ اظہارِ رائے کو مفلوج کر دیا ہے۔
افغان جرنلسٹس سینٹر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صحافتی حقوق کی پامالیوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔
ایک سال میں صحافیوں کے خلاف تشدد اور دباؤ کے 207 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں 21 ٹی وی اسٹیشنز اور 8 میڈیا ادارے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں ۔10سے زائد صحافتی اداروں کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
انسانی تصاویر کی اشاعت پر پابندی کا دائرہ کار 18 نئے صوبوں تک بڑھا دیا گیا ہے، جس کے بعد اب یہ پابندی مجموعی طور پر 25 صوبوں میں نافذ ہے۔
رپورٹ میں خواتین صحافیوں پر عائد سخت پابندیوں کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ خواتین کو نہ صرف کام کرنے سے روکا جا رہا ہے بلکہ انہیں پریس کانفرنسز اور اہم تقاریب کی کوریج سے بھی بے دخل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث میڈیا انڈسٹری میں خواتین کی نمائندگی تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ سرکاری میڈیا چینلز کو محض پروپیگنڈا مشین بنا دیا گیا ہے جہاں صرف یک طرفہ بیانیہ پیش کیا جاتا ہے۔
آزاد صحافیوں کی گرفتاریاں اور ان سے جبری اعترافِ جرم کروانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت میڈیا پر جابرانہ پابندیاں لگا کر اپنی ناکام پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق میڈیا پر یہ کریک ڈاؤن، دہشت گرد عناصر کی مبینہ سرپرستی اور آمریت کو طول دینے کی کوششیں افغانستان کو ایک ناکام ریاست کی طرف دھکیل رہی ہیں۔