بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مزار کا تحفظ، اس بارے میں قانون کیا ہے؟

بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مزار کا تحفظ، اس بارے میں قانون کیا ہے؟

کراچی: قانون کی شق چھ کے تحت مزار قائد کے احاطے کے اندر اور اس کے دس فٹ باہر تک عوامی مظاہرے اور ہر طرح کی سیاسی سرگرمی منع ہے اور ایسا جرم ہے جس پر جرمانے کے علاوہ جیل کی سزا بھی مقرر ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر مقدمہ قائداعظم مزار  آرڈینینس 1971ء کے تحت درج کروایا گیا ہے۔ یہ قانون بانی پاکستان کے مزار کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا تا کہ مزار کی حیثیت اور اس کا تقدس براقرار رکھا جا سکے۔ اس قانون کے تحت بانی پاکستان کے مزار کا 61 ایکٹر رقبہ جس پر مزار تعمیر ہے اس کو تاریخی عمارت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزار کے اردگرد 71 ایکڑ زمین کو بھی تحفظ حاصل ہے۔ اس قانون کی شق چھ کے تحت مزار قائد کے احاطے کے اندر اور اس کے دس فٹ باہر تک عوامی مظاہرے اور ہر طرح کی سیاسی سرگرمی منع ہے اور ایسا جرم ہے جس پر جرمانے کے علاوہ جیل کی سزا بھی مقرر ہے۔ اس قانون کے تحت مزار کے احاطے میں ہتھیار لے کر آنا بھی منع ہے۔ قانون کی شق آٹھ کے تحت ’کوئی شخص ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے مزار کا تقدس پامال ہو‘۔ قانون کی شق نو کے تحت مزار کو کسی قسم کا نقصان پہنچانا قابل تعزیر جرم ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر تین سال جیل اور جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو مزار قائد کی بے حرمتی کے مقدمے میں گزشتہ صبح گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مریم نواز نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ پولیس نے ہوٹل میں ان کے کمرے کا دروازہ توڑا اور کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا۔

گزشتہ روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ صفدر نے صبح دروازہ کھولا تو باہر پولیس کھڑی تھی۔ میں اس وقت سو رہی تھی، صفدر نے کہا کہ آپ اندر مت آئیں، میری بیوی اندر ہے، آپ باہر رہیں میں اپنی دوائی لے کر آتا ہوں، صفدر کپڑے تبدیل کر رہے تھے کہ اچانک اہلکار دروازے توڑ کر کمرے کے اندر آگئے۔

بعد ازاں سٹی کورٹ نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ کراچی سٹی کورٹ کی جانب سے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکلا کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا جسے نقد جمع کرایا گیا۔ کیپٹن صفدر کی رہائی سے قبل عدالت میں (ن) لیگ اور پی ٹی آئی وکلا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر مجسٹریٹ نے وکلا کو چیمبر میں طلب کر لیا تھا۔

اپنی رہائی کے بعد میڈٰیا سے گفتگو میں کیپٹن صفدر کا کہنا تھا کہ ہم نواز شریف کی قیادت میں ریاست کو بچانے نکلے ہیں۔ سندھ حکومت کا شکر گزار ہوں۔ ایجنسیوں کے پے رول پر شخص کی درخواست پر مقدمہ درج ہوا۔ چیئرمین نیب، ڈی جی نیب کے خلاف ارادہ قتل کی درخواست دی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔