نئی دہلی: بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہاہے کہ بھارت، پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور پاکستان جانے والے دریائی پانی کا رخ موڑ کر راجستھان سمیت بھارت کے دیگر اندرونی علاقوں میں استعمال کیا جائے گا۔
بھارتی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک حالیہ انٹرویو میں امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو وہ پانی اب نہیں دیا جائے گا جو اسے ماضی میں "ناجائز طور پر" فراہم کیا جا رہا تھا۔بھارتی وزیر داخلہ نے کہا کہ نئی دہلی سندھ طاس معاہدے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلے ہی تعلقات کشیدہ ہیں، اور پاکستان بارہا عالمی برادری کو آگاہ کر
چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر دستبرداری ممکن نہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے عالمی سطح پر قانونی تحفظ حاصل ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، زیریں علاقوں کو پانی پر اولین حق حاصل ہوتا ہے، اور اگر بھارت دریا کا پانی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اقدام "جنگی اقدام" تصور کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امیت شاہ کا یہ بیان نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس سے عالمی برادری میں بھی بھارت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی پانی، ماحولیاتی بحران، اور سیاسی تنازعات کا شکار ہے۔