اسلام آباد:چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے رواں برس مون سون سیزن کی قبل از وقت آمد کی پیش گوئی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بارشیں معمول سے تقریباً 5 فیصد زائد ہو سکتی ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے ارکان نے این ڈی ایم اے کا دورہ کیا، جس کے بعد کمیٹی اجلاس میں چیئرمین نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مون سون سیزن جون کے آخر میں متوقع ہے۔ پنجاب میں 388 ملی میٹر تک بارش کی پیش گوئی ہے، جو کہ معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ اور نارووال کے علاقوں میں بھی بارشوں میں 50 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
چیئرمین کے مطابق، درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے، جس سے ممکنہ طور پر سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران چیئرپرسن شیری رحمٰن نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر تشویش کا اظہار کیا، جس پر حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے تحقیق جاری ہے۔