نیب اگر غیر قانونی نوٹس میں مریم نواز کو گرفتار کرے گا تو احتجاج کریں گے: راناثنااللہ

Shahbaz Sahrif,PPP,Pakistan Politics,Marryam Nawaz,Nawaz Sharif,Bilawal Bhutto,Latest News,Imran Khan

لاہور : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نیشنل اکائونٹیبلٹی بیورو (نیب) کا کردار انتہائی قابل اعتراض ہے جو صرف حکومت کے سیاسی مخالفین اور کاروباری لوگوں کیخلاف کارروائی کرنے میں مصروف ہے جبکہ اس کے ٹاؤٹ جگہ جگہ پھر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ کرپشن کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نیب حکومت کےکہنے پر مریم نواز کو بلا رہا ہے،مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ 26 مارچ کو پرامن طور پر مریم نواز شریف کیساتھ جائیں گے،پورے پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کےایم این اے اور ایم پی اے وہاں آئیں گے،ہم پرامن طور پر اپنی لیڈر سے اظہار یکجہتی کیلئے وہاں پہنچیں گے،اگر انتظامیہ نے کوئی اوچھا ہتھکنڈہ اپنایا تو تمام ذمہ داری انتظامیہ،نیب چیئرمین اور ڈی جی نیب پر ہو گی۔ 

ن لیگی رہنماء نے نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاقی محتسب خالصتاً شہزاداکبر کا ادارہ بن چکا ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،نیب اگر غیر قانونی نوٹس میں مریم نواز کو گرفتار کرے گا تو احتجاج کریں گے،مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی اہم میٹنگ ہو چکی ہے جس میں احسن اقبال ،حمزہ شہباز سمیت دیگر رہنما بھی موجودتھے جبکہ نوازشریف سے مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے بعد ہی حتمی طور پر فیصلے ہو سکیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو مریم نواز کی پیشی کے موقع پر آنے دیں اور کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کریں، مریم نواز جب پچھلی بار پیشی کیلئے گئیں تو پولیس نے کارکنان کا راستہ روکا تھا جس کے باعث دونوں کے درمیان شیلنگ اور پتھراؤ ہوا، نیب مکمل طور پر پٹ چکا ہے اور شہزاد اکبر کے کہنے پر مریم نواز سمیت دیگر لوگوں کو نوٹس بھیجتا ہے،،اس پر کسی کو بھی بھروسہ نہیں رہا ،نیب نے اگر ایک دفعہ پھر مریم نواز بلانے کی ہمت کی ہے تو حوصلہ کرے اور لوگوں کو آنے دے ۔

 پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں اختلافات پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کی کشتی میں ہونے والا سوراخ مولانا فضل الرحمان نے بند کر دیا ہے، اتحاد میں شامل 9 جماعتوں کا کہنا ہےاستعفے دے کر حکومت کو چلتا کیا جائےگا لیکن پیپلزپارٹی کا صرف یہ موقف یہ ہے کہ ابھی استعفے نہ دئیے جائیں،جب پیپلز پارٹی کہہ رہی ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے ساتھ ہے تو ہم کیسے اسے مائنس کردیں،پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطہ ہے ان سے گفتگو ہوتی رہتی ہے۔