اک اور دریا کا سامنا

اک اور دریا کا سامنا

الیکشن 2024 کا مرحلہ سر ہونے کے بعد حکومت سازی کا عمل جاری ہے۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے ملک میں استحکام آ جائے گا۔جتنے منہ اتنی باتیں کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اگلی حکومت چند ماہ نہیں تو چند سال تک ہی چل پائے گی اور اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرسکے گی۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ہائوس ان آرڈر نہیں۔ بحران تو واقعی بہت گہرا اور انوکھا ہے لیکن یہ سب کس کی غلطی سے اس نہج پر آیا اور وجوہات کیا ہیں یہ بھی کوئی راز نہیں۔ اب ہمیں بتایا جارہا ہے کہ مقتدر اداروں کی سینئر قیادت تو یہی چاہتی تھی کہ نواز شریف کو حکومت سونپ کر خصوصاً معاشی میدان میں ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے لیکن باقی افسروں کی رائے تھی کہ سابق وزیر اعظم کی سوچ ایسی نہیں کہ وہ خود کو مکمل طور پر ریاستی اداروں کی منشا پر چھوڑ دیں۔ ریٹائر افسروں کی بڑی تعداد بھی نواز شریف کو ان کے آزادانہ فیصلوں کی وجہ سے پسند نہیں کرتی۔ ( ویسے یہ اپنی جگہ ایک دلچسپ مگر چبھتا ہوا سوال ہے کہ ایسے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں کے بارے میں عام لوگوں اور سیاسی کارکنوں کی کیا رائے ہے ؟ )۔ رہ گیا چین آف کمانڈ کا سوال تو اس کا جائزہ حالیہ تاریخ سے ہی لے لیا جائے تو ایک حد تک رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ 2011 میں پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھرنے کا عمل شروع کیا گیا تو سب سے پہلے ق لیگ کے بندے توڑنے کا کام شروع کیا گیا۔ چودھری برداران پریشان ہوگئے اور شکایت کرنے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے گھر جا پہنچے۔ ان کو کچھ ریکارڈنگز بھی سنوائی گئیں جن میں ایجنسی کے افسران ق لیگ کی ارکان کو ترغیب دے رہے تھے کہ ق لیگ قصہ پارینہ ہوچکی اب پی ٹی آئی ہی ‘‘ روشن مستقبل ‘‘ ہے اس لیے دیر نہ کریں۔ جنرل کیانی نے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کیا اور اسی وقت ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو فون ملا کر پوچھا تو جنرل پاشا نے کہا مجھے کچھ علم ہے نہ ہی اس معاملے سے آئی ایس ایس کا کوئی تعلق ہے۔جنرل کیانی نے کہا چیک کرلیں اور جو بھی ہوں انہیں روک دیں۔ ساتھ ہی چودھری برادران کو کھانے پر مدعو کرکے تسلی دینے کا کہا۔ چودھری برادران جنرل پاشا کے پاس گئے تو انہوں نے کہا آپ کو کسی نے غلط اطلاع دی ہے ہمارا پی ٹی آئی سے کیا لینا دینا۔ کھانے کی میز پر سیاسی گفتگو چھڑ گئی۔ اسی دوران جنرل پاشا بھول گئے کہ چودھری برادران کیا شکایت لے کر آئے ہیں ان کے منہ سے نکل گیا آپ عمران خان سے اتحاد کرلیں ، ملاقات کا اہتمام ہم کردیں گے۔صورتحال تو مضحکہ خیز ہوگئی لیکن ادارے نے پی ٹی آئی پراجیکٹ پر کام اور تیز کردیا۔ ظاہر ہے یہ سب آرمی چیف جنرل کیانی کی مکمل آشیر باد سے ہورہا تھا۔ اسی طرح 2014 کے دھرنوں کے دوران قوم کو بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی کمانڈ سے سرکشی کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر اسلام خود ہی دھرنے ،دنگے کرا رہے ہیں۔ پھر یہ بھی کہا گیا کہ جنرل ظہیر السلام کے ساتھ چار عدد کور کمانڈر بھی نواز حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہ کھلا جھوٹ تھا کیونکہ آرمی چیف کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم
باجوہ مسلسل حکومت مخالف پریس ریلیز جاری کررہے تھے۔ دھرنے کے مقاصد پورے ہوئے وہ پانچوں’’سازشی ‘‘ جنرل مدت پوری کرکے ریٹائر ہوگئے۔ جنرل راحیل شریف نے اپنی گیم جمائی خوب ہڑبونگ مچائی مگر توسیع کی تمنا دل میں لیے رخصت ہوگئے۔ جنرل باجوہ نے پہلے وزیراعظم نواز شریف کو ادارے کا اندرونی دبائو کہہ کر ڈاج کیا پھر ججوں سے مل کر حکومت ہی ختم کردی ، بیٹی سمیت جیل میں بھی ڈلوا دیا۔ پھر اگلے وزیر اعظم عمران خان کی باری آئی تو ڈبل نہیں ٹرپل گیم شروع کردی۔ کئی جرنیلوں کو چیف بنوانے کا جھانسہ دئیے رکھا اور خود دوسری توسیع لے کر تیسری بار آرمی چیف بننے کے لیے ہر حد سے گزر گئے۔ عمران اور ان کے حمایتوں سے فوج کو برا بھلا کہلوایا اور خود مذاکرات کرتے رہے۔بندیالی ججوں کو کہہ کر پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ختم کردی تاکہ افراتفری اس حد تک جا پہنچے کہ ہر کوئی آکر کہے بس آپ ہی ملک سنبھال لیں۔ پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتیں ڈٹ نہ جاتیں تو شاید آج بھی باجوہ ہی آرمی چیف ہوتے۔آرمی چیف ہی باس ہوتا ہے۔ باقی سب ماتحت ، اختلاف رائے تو ہوسکتا ہے لیکن ڈسپلنڈ فورس میں کسی کی مجال نہیں ہوتی کر حکم کی سرتابی کرسکے۔ موجودہ صورتحال ہوسکتا ہے کسی حد تک منفرد ہو۔لیکن اس کا درست اندازہ ہمیں آنے والے برسوں میں ہی ہو سکے گا۔ انتخابی نتائج کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ نرم انقلاب ہے لیکن اس کے نتیجے میں نو مئی میں ملوث تمام کردار باہر آگئے تو پھر یہ واقعی گیم چینجر پیش رفت بن سکتا ہے۔ آگے جو ہوگا وہ دیکھا جائے گا لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پیچھے کیا ہوا۔ الیکشن 2024 کے لیے نواز شریف کی واپسی سے لے کر اب تک ایک منظم مہم چلائی گئی کہ وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں رہنے والے اینکروں ، یو ٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ باخبر حلقے جانتے ہیں کہ فیصل ووڈا کن افسروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ ووڈا نے مختلف چینلوں پر آکر ‘‘الودع نواز شریف ‘‘ کا اعلان کیا۔ اس کام کے لیے بلاول بھٹو زرداری سے لے کر خورشید شاہ تک کو استعمال کیا گیا۔ نواز شریف شاید خود بھی پیچھے ہٹ گئے تھے اور چاہتے تھے کہ جانشین کے طور پر مریم نواز کو موقع دیا جائے۔ اگرچہ یہ استدعا قبول کرلی گئی مگر نواز شریف کو سیاست سے رخصتی کے لیے’’ فیس سیونگ ‘‘ نہیں مل سکی۔ ویسے اس معاملے میں 80 فیصد قصور ن لیگ کا اپنا ہے جو سیاست اور عوام سے کٹ کر اسٹیبلشمنٹ پر ایک بوجھ بن چکی ہے۔ ن لیگ ایسی بدقسمت پارٹی ہے کہ اسے لاحق سیاسی مرض کی نہ صرف بروقت تشخیص ہوئی بلک’’دوا ‘‘ بھی تجویز کی جاچکی تھی لیکن’’مریض ‘‘ صحت یاب ہونے پر خود ہی راضی نہیں تھا۔افغانستان کی صورتحال کے سبب جے یو آئی ف کو آئوٹ رکھنا مقصود تھا انہیں مہم ہی نہیں چلانے دی گئی۔جے یو آئی کی قیادت اور کارکن خود کش حملوں اور فائرنگ کی زد میں رہے۔ پی ٹی آئی کے بارے میں مقتدر حلقوں کی جانب سے پہلے ہی کہا جارہا تھا کہ کے پی کے میں حکومت وہی بنائے گی۔ لوگ حیران تھے کہ کیا نو مئی کو بھلا کر ایسا کیا جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ پیپلز پارٹی نے آنکھیں کھلی رکھ کر نہایت مہارت سے اپنے پتے کھیلے یوں سب سے زیادہ فائدے میں رہی لیکن کراچی میں ایم کیو ایم کو واپس لاکر صوبے میں اسکے سر پر بھی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ قومیت پرست جماعتوں کو مزید محدود کردیا گیا۔ وفاق اور صوبوں میں اگلی منتخب حکومتیں نگران سیٹ اپ کا ہی تسلسل ہوں گی لیکن انہیں نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ زور آورمیڈیا و سوشل میڈیا اور ہر معاملے میں مداخلت کرنے پر تلی عدالتوں کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ ویسے ہم تو آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی طاقت اور پلاننگ کے مداح ہیں۔ دس سال پہلے ایک افسر نے کہا تھا کہ پنجاب کو ن لیگ کا گڑھ رہنے نہیں دیا جائے گا۔ ن لیگ کا حال آپ کے سامنے ہے۔ ایک دوسری شخصیت کا دعویٰ تھا کہ کے پی کے میں پختونوں کے نام پر سیاست اور صوبے کا دینی اقدار کے حوالیسے تشخص رفتہ رفتہ کم کردیا جائے گا۔ دینی سیاسی جماعتیں سکڑ گئیں۔سیاسی جتھے علما کا تمسخر اڑانے مساجد کے سامنے غل مچانے پر لگ گئے۔ دوسری طرف پختونوں کی غالب اکثریت میانوالی سے تعلق رکھنے اور لاہور میں زندگی گزارنے والے ایک پنجابی عمران خان کو ( جس کے بڑے بھی بھارتی پنجاب سے ہجرت کرکے آئے تھے ) نجات دھندہ مان بیٹھی ہے۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا