سکول بند نہیں کرناچاہتا تھا ،مجبوری میں مشکل فیصلہ کرنا پڑا،صوبائی وزیرتعلیم

سکول بند نہیں کرناچاہتا تھا ،مجبوری میں مشکل فیصلہ کرنا پڑا،صوبائی وزیرتعلیم
کیپشن: screen shot

لاہور ،وزیرتعلیم پنجاب مراد راس نے کہا ہے کہ ہم نےسکول کے بچوں ،ٹیچرز   کی زندگیوں سے نہیں کھیلنا حکومت کی رٹ قائم کی جائے گی اور اس کے لئے جو بھی کرنا پڑا وہ میں کروں گا ۔ وہ پروگرام عائشہ احتشام کے ساتھ میزبان  عائشہ سے گفتگو کررہے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ حالات بہت خراب ہیں  اگر ہم نے مینج نہ کیا تو خدانخواستہ صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے ۔ 

مراد راس کا کہنا تھا کہ سکول بند کرنے کے حق میں نہیں تھا لیکن کورونا کی خراب صورتحال کی وجہ سےایسا کرنا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ جو آن لائن  کلاسز ہوسکتی ہیں وہ چلتی رہیں گی اصل مسئلہ پبلک سکولز کا ہے جہاں  آن لائن سروس نہیں ہوتی ۔ ان بچوں کے لئے ہم ہوم ورک تیار کرکے دے رہے ہیں جیسے گرمیوں کی چھٹیوں کا ہوتا ہے ۔ اسی ہوم ورک کی بنیاد پر ہم آگے چلیں گے ۔ بچوں کی پروموشن بھی اس ہوم ورک سے جڑی ہوئی ہے ۔ ہوم ورک کو دیکھ کر ہی پروموشن دی جائے گی ۔  

مرادراس نے کہا کہ نویں دسویں گیارہویں بارہویں کے بورڈ کے امتحان مئی یا جون میں ہوں گے ان کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ پڑھائی ،ٹیسٹ اور ہوم ورک کے بغیر کوئی بچہ بھی پاس نہیں کیا جائے گا ۔ ابھی ہم نے فیسوں کے بارے میں کوئی فیصلہ  نہیں کیا کیونکہ ابھی ہم صرف کوویڈ کو دیکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال بہت خراب  ہے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر ہفتہ وار فیصلے کرنا پڑرہے ہیں ۔ میرا سب کو یہ ہی مشورہ تھا کہ سکول بند ہوجانے سے مال بھر جاتے ہیں بچے چھٹیاں گذارنے چلے جاتے ہیں ۔ اگر مینج کر نا ہے تو پھر صحیح طرح سے اس کو مینج کرنا پڑے گا یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک جگہ سے رش ختم کرکے دوسری جگہ رش بڑھا دیا جائے ۔ 

پروگرام میں موجود پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر کاشف مرزا نے کہا کہ ہماری تمام سیاسی پارٹیاں کورونا پھیلانے کی ذمہ دار ہیں ۔ حکومت یا اپوزیشن کے لوگ جس طرح جلسے کررہے تھے وہ کورونا کے پھیلاؤ کے ذمہ دار ہیں ۔ سیاستدانوں نے اپنے جلسے جاری رکھے حکومت تو اب پابندی لگا رہی ہے ۔ پی ڈی ایم کے جلسے بھی کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ ہیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم سے سکول بند کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی ۔ حکومت کو کسی کی پرواہ نہیں بچوں کا کتنا نقصان ہورہا ہے ان کو کوئی مسئلہ نہیں ۔ حکومت پوری قوم کو یرغمال بنا نا چاہتی ہے اور صرف اپوزیشن کے جلسے روکنا چاہ رہی ہے لیکن اپوزیشن پھر بھی باز نہیں آئے گی اور عوام کا ہی نقصان ہوگا ۔ انہوں نےیواین او، ڈبلیو ایچ او کی ایڈوائزری کی بھی پرواہ نہیں کی ۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے آٹھ دس ماہ میں سات کروڑ بچے سکولوں سے باہر رہے ہیں ۔ ابھی بمشکل دوماہ ہی سکول کھولے تھے کہ پھر بند کردیئے ۔پرائیویٹ سکولوں میں دو کروڑ اکسٹھ لاکھ بچے پڑھتے تھے لیکن ان میں سے ایک کروڑ تیس لاکھ بچہ واپس تعلیمی اداروں میں آیا ہی نہیں ۔ ہمارے پندرہ لاکھ اساتذہ تھے جن میں سے سات لاکھ اساتذہ نے یہ شعبہ ہی چھوڑ دیا تھا ۔ حکومت کا ارادہ مئی تک سکول بند کرنے کا ہےپھر گرمیوں کی چھٹیاں آجائیں گی  یہ ستمبر میں سکول کھولنا چاہ رہے ہیں ۔ اس وجہ سے بہت سے بچے چائلد لیبر کی طرف مڑجائیں گے اور اگر بچے ایکبار پیسے کمانے لگ جائیں تو پھر وہ پڑھائی کی طرف واپس نہیں آتے ۔ حکومت کہتی ہے کہ آن لائن بچے پڑھیں گے تو ایسے بچوں کی شرح صرف چودہ فی صد ہے  تو باقی بچے کہاں جائیں گے ۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج نہیں کررہے ہم اپنی تدریس کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔تعلیمی ادارے ہی واحد جگہ ہیں جہاں پر ایس اوپیز پر عملدرآمد ہورہا ہے ۔ ہمارے بچے ہر جگہ پر جارہے ہیں لیکن وہاں پر کوئی ایس اوپیز نظر نہیں آتا صرف سکول ہی ایسی جگہ ہیں جہاں پر ایس او پیز پر عمل کیا جارہا ہے ۔ 

صدر لاہو رچیمبر آف کامرس طارق مصباح نے کہا  کہ ہم حکومت کے ساتھ ہیں کیونکہ کورونا بہت زیادہ پھیل رہا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دکانوں کی ٹائمنگ 8 بجے تک رہنے دی جائے ۔ ہم حکومت کے ایس اوپیز کو سپورٹ کریں گے لیکن صرف دوگھنٹے بڑھا دیئے جائیں ۔

صدرانجمن تاجران آل پاکستان اجمل بلوچ نے کہا کہ جتنے لوگ زیادہ ہوں گے کورونا اتنا پھیلے گا جتنا لوگ کم ہوں گے کورونا کم پھیلے گا ۔کورونا کو روکنے کے لئے دس بجے تک ٹائم ہونا چاہئے جب بھی ٹائم کم کیا جاتا ہے تو آخری گھنٹے میں بہت زیادہ رش بڑھ جاتا ہے اور ساری کسر نکل جاتی ہے ۔ 

مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو سٹیک ہولڈرز کو نہیں بلایا جاتا ۔ مجھے حیرانگی ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں کی اجازت ہے لاکھوں لوگ آتے ہیں لیکن دکان میں دوگاہکوں کے کھڑے ہونے پر پابندی ہے ۔ کسٹمر کو ماسک پہنانا بہت مشکل ہوتا ہے دکاندار ماسک پہن کر اورسینی ٹائزر لگا کر کھڑا ہے لیکن گاہک نہیں مانتا ۔ اب تک کوئی ایک بھی کیس ایسا نہیں آیا کہ کسی گاہک نے کہا ہو کہ مجھے کسی مارکیٹ سے کورونا ہو ا ہے ۔ 

مسلم لیگ ن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی سمارٹ کورونا ہے جو حکومتی جلسوں میں نہیں پھیلتا لیکن اپوزیشن کے جلسوں میں پھیلتا ہے ۔ہم نے لاہور کے جلسے کے لئے پانچ لاکھ ماسک کا آرڈر دیا ہے ۔ ہم اپنے جلسوں میں ایس او پیز کو فالو کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ڈھائی سالوں میں بیروز غربت اور مفلسی بڑھی ہے ۔ اگر اس حکومت کا خاتمہ نہ ہوا تو کورونا شائد معاف کردے لیکن عوام بھوک سے مر جائیں گے ۔اگر اجتماعات پر پابندی لگانی ہے تو پھر سب پر پابندی ہونی چاہئے ۔ حکومت اب تک غیر سنجیدگی سے کام لے رہی ہے ہم اپنی ذمہ داری نبھائیں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کورونا کی دوسری لہر بہت خطرناک ہے لیکن حکومت سوئی ہوئی ہے ۔ میں خود ملتان گیا تھا اورایس او پیز کو مکمل طورپر فالو کرنے کا کہا گیا ہے ۔

پی ڈی ایم کے تین جلسے باقی ہیں ہم ان جلسوں میں کورونا ایس اوپیز پر بات ہوئی ہے ان جلسوں کو ملتوی کرنے پر ابھی کوئی بات نہیں ہوئی ۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے کورونا سے زیادہ حکومت عوام کے لئے خطرناک ہے ۔ وزیراعظم کی عجیب منطق ہے جب کورونا کی پہلی لہر آئی تو یہ لاک ڈاؤن کے لئے تیار نہیں تھے اب دوسری لہر آئی ہے تو پہلے ہاتھ ہی لاک ڈاؤن کررہے ہیں ۔