Get Alerts

کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ، ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ کچھ دیر میں متوقع ہے، عظمیٰ بخاری

کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ، ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ کچھ دیر میں متوقع ہے، عظمیٰ بخاری

لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر جلد پابندی لگ جائے گی، اور ہڑتال کے نام پر زبردستی کاروبار یا ٹرانسپورٹ بند کرانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو کاروبار یا ٹرانسپورٹ بند کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر کسی نے مارکیٹ بند کرانے یا ٹرانسپورٹ روکنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ  پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔26اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کردیے گئے ہیں، اب کوئی نیا اسلحہ لائسنس جاری نہیں ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لائسنس یافتہ اسلحہ خدمت مرکز میں رجسٹرڈ کرانا لازمی ہے۔ڈالا کلچر اور بدمعاشی کی اب پنجاب میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

عظمیٰ بخاری نے مزید بتایا کہ ٹی ایل پی کی فنڈنگ کے ذرائع کا سراغ لگایا جا چکا ہے اور ان کے اکاؤنٹس کو فریز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعد رضوی اور جماعت کے دیگر ذمہ داران پر تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اور والدین کو اپنے بچوں کو ٹی ایل پی کی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، ورنہ ان پر دہشت گردی کے مقدمات عائد ہوں گے۔

وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں اسلحہ لائسنس کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور 511 اسلحہ ڈیلرز کی درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ اس کے علاوہ، پنجاب میں انتہاپسند جتھوں کی تشہیر پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، اور ان کے وال چاکنگ یا پوسٹرز کو ہٹایا جا رہا ہے۔

غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کومبنگ آپریشنز کا ذکر کرتے ہوئے، عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم ہیں اور کاروبار کرتے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ حکومت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کو کرایہ پر دینا ایک جرم ہے۔

عظمیٰ بخاری نے آخر میں کہا کہ ریاست سے ٹکرانے والے عناصر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ قانون اور آئین سب سے بالاتر ہیں، اور ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

ٹیگز: