واشنگٹن: امریکا میں سکیورٹی کی دگرگوں صورتحال؛ ایک ہی ماہ کے دوران فائرنگ کا دوسرا بڑا واقعہ سامنے آ گیا، جہاں دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب سکیورٹی چیک پوائنٹ پر مسلح شخص نے حملہ کر دیا۔ سیکریٹ سروس کی فوری جوابی فائرنگ میں حملہ آور مارا گیا، جبکہ فائرنگ کی زد میں آنے والا ایک معصوم راہگیر ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
امریکی حکام کے مطابق فائرنگ کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر ہی موجود تھے۔ واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی پروٹوکول کے تحت صدر ٹرمپ کو فوری طور پر صدارتی محل کے اندر ایک انتہائی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تاکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حالاتِ واقعہ: فائرنگ کی آواز سنتے ہی وائٹ ہاؤس میں ہنگامی صورتحال نافذ کر کے اسے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور اطراف کے تمام راستے سیل کر دیے گئے۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے کو کلیئر قرار دیے جانے کے بعد، تقریباً ایک گھنٹے بعد لاک ڈاؤن ختم کیا گیا۔
واشنگٹن پولیس اور وفاقی تحقیقاتی اداروں نے واقعے کی جگہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ آور کا اصل ہدف کیا تھا۔ ایک ماہ میں فائرنگ کے دوسرے واقعے نے امریکی سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔