اسلام آباد: بجلی کی طویل بندش کے باعث موبائل اور انٹرنیٹ سروسز میں خلل سے بچنے کیلئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مختلف علاقوں میں ٹیلی کام ٹاورز کے بجلی کے متبادل نظام کی نگرانی اور جانچ کا آغاز کردیا۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق خصوصی ٹیمیں کراچی، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، ایبٹ آباد، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور مظفرآباد میں موجود ٹیلی کام ٹاورز کا معائنہ کر رہی ہیں، جبکہ یہ کارروائی شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوں تک بھی جاری ہے۔
ٹاورز پر نصب بیک اَپ بیٹریوں، جنریٹرز اور سولر پاور سسٹمز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بالخصوص ان علاقوں میں متبادل بجلی کے انتظامات کو چیک کیا جا رہا ہے جہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق معائنے کا مقصد بجلی کی بندش کے باوجود ٹیلی کام ٹاورز کو فعال رکھنا اور صارفین کیلئے موبائل فون و انٹرنیٹ سروسز میں ممکنہ حد تک تعطل نہ آنے دینا ہے۔ مقامی منتخب نمائندے اور ان کی جانب سے نامزد افراد بھی ٹاورز کی جانچ کے دوران پی ٹی اے ٹیموں کے ساتھ موجود ہیں۔
دوسری جانب طویل لوڈشیڈنگ ٹیلی کام نیٹ ورک کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ڈان کے مطابق جون 2026 میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ مسلسل بجلی بند ہونے سے ٹاورز کی بیک اَپ بیٹریاں جلد ختم ہوجاتی ہیں جبکہ جنریٹرز میں موجود ایندھن بھی تیزی سے استعمال ہوتا ہے، جس سے سروسز کا تسلسل متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
پی ٹی اے کے نیشنل ٹیلی کام سکیورٹی فریم ورک میں بھی اہم موبائل بیس اسٹیشنز کیلئے بجلی کی بندش کی صورت میں متبادل توانائی کے انتظامات پر زور دیا گیا ہے، جن میں بیٹری بیک اَپ اور ضرورت کے مطابق نجی جنریٹرز کا استعمال شامل ہے۔
رواں سال حکومت نے ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کرنے اور اہم ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی فراہم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔ اس حوالے سے وزارتِ آئی ٹی، پی ٹی اے، نیپرا، پاور ڈویژن اور ٹیلی کام انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق موبائل آپریٹرز کی جانب سے بھی بجلی کی طویل بندش سے نیٹ ورک کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ اپریل 2026 میں ایک بڑے موبائل آپریٹر نے بتایا تھا کہ بار بار بجلی جانے کے باعث ٹاورز کی بیک اَپ بیٹریاں مکمل طور پر چارج نہیں ہو پاتیں، جس سے موبائل سروس متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
پی ٹی اے کی حالیہ کارروائی کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ زیادہ لوڈشیڈنگ والے علاقوں میں ٹیلی کام ٹاورز کے متبادل بجلی کے نظام کس حد تک مؤثر ہیں اور طویل بجلی بندش کی صورت میں موبائل و انٹرنیٹ سروسز کو برقرار رکھنے کیلئے مزید کن اقدامات کی ضرورت ہے۔