تحریر: طارق وسیم
جاپان کے شہر نگویا میں 20 ویں ایشین گیمز کے مقابلے جاری ہیں ،پاکستان کا 246 اتھلیٹس پر مشتمل دستہ ان کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے جن میں سے 22 کل تک واپس آ جائیں گے کیونکہ ویمنز کرکٹ کے میڈلز کا فیصلہ ہو گیا ہے ، پاکستان نے اس ایونٹ میں کانسی کا تمغہ جیتاہے ، یعنی پاکستانی لڑکیاں تیسرے نمبر رہیں ، بھارت کی پہلی اور سری لنکا کی دوسری پوزیشن تھی ،پاکستان ایشین گیمز میں 23 مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لے رہا ہے، جن کا ذکر کرنے سے قبل یہ بتانا ضرور ہے کہ قومی فٹ بال ٹیم اس ایونٹ میں شریک نہیں ہے، کیونکہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے بر وقت رجسٹریشن ہی نہیں کرائی تھی ، بیس بال اور جمناسٹک میں بھی پاکستان کی نمائندگی نہیں ہے ،جن 23 کھیلوں میں پاکستانی اتھلیٹ حصہ لے رہے ہیں ان میں ہاکی کرکٹ سکواش ،اتھلیٹکس باکسنگ ،کشتی رانی ،پیراکی ،کبڈی ووشو ٹرائی تھلون ،ٹیبل ٹینس ،سافٹ ٹینس ای تھلون اور ای سپورٹس شامل ہیں۔
کرکٹ میں میڈل جیتنے کی امید ہے ،ہاکی میں مشکل نظر آتا ہے ،باکسنگ اور سکواش میں بھی میڈل جیتا جا سکتا ہے کشتی رانی میں پاکستان متعدد مرتبہ ایشین چیمپیئن رہ چکا ہے ،پیراکی میں ہماری کارکردگی معقول نہیں اورمقابلہ بھی چین اور جاپان کے سوئمرز سے ہے جو دنیا بھر میں بہترین سمجھے جاتے ہیں ، پاکستانی ریسلر انعام بٹ کو بھی ایشین گیمز میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی ہے اور ان سے بھی کافی امید یں ہیں ،ایشین گیمز میں اس مرتبہ کرکٹ ایک نیا ایڈیشن ہے ،پاکستان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کم ازکم 20 میڈلز جیتے گا جن میں 4 سے 5 گولڈ میڈلز ہوں گے ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایشیا کی سطح پر یہ میڈلز کافی ہیں اور آپ اتنے تمغے جیت بھی سکیں گے یا نہیں؟ گزرتے وقت کے ساتھ ملک میں کھیلوں کا معیار بہت گر گیا ہے ،پاکستان ویٹ لفٹنگ اور ٹیبل ٹینس میں ایشیا کے بہترین کھلاڑی پیدا کیا کرتا تھا، لیکن رواں ایشین گیمز میں کوئی پاکستانی ویٹ لفٹر حصہ نہیں لے رہا ،جس کی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن نے پاکستان کی رکنیت معطل کر رکھی ہے , الزام ہے کہ پاکستانی ویٹ لفٹرز ممنوعہ ادویات کا استعمال کرتے ہیں اور اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ پاس نہیں کرتے ۔ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن میں کرپشن کی شکایات بھی ہیں، اور حکومت پاکستان نے اسے معطل کر رکھا ہے،یہ افسوسناک امر ہے ہے کہ ایک ایسا کھیل جس میں پاکستان اور ایران نے ایشیا میں سب سے زیادہ میڈلز جیتتے تھے،آج پاکستان اس کھیل میں حصہ ہی لےرہا ،باکسنگ بھی پاکستان کی پہچان ہے لیکن گزشتہ ایک دہائی میں لائٹ ویٹ باکسرز ہی منظر عام پر آئے ہیں، ہیوی ویٹ تو دور کی بات کوئی مڈل ویٹ باکسر بھی پاکستان کا نام روشن کرتا نظر نہیں آتا۔
سکواش میں جس میں پاکستان کا طوطی بولتا تھا ادھر بھی حالات کچھ اچھے نہیں ،اتھلیٹکس کے مقابلوں میں کوئی نہ کوئی پاکستانی ہمیشہ میڈل جیت لیتا ہے، توقع ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوگا ،لیکن ایشین لیول پر چند میڈلز سے گزارہ نہیں ہوگا ،آپ کو چین کے بعد سب سے زیادہ میڈلز جیتنے چاہیئں، کیونکہ کھیلوں کےلیے ایشیا میں سب سے فٹ لوگ پاکستانی اور جاپانی سمجھے جاتے ہیں لیکن مسئلہ ہمارے نوجوانوں میں نہیں کہیں اور ہے ،پاکستانی قوم کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں ،ساٹھ کی دہائی میں سارے پاکستان کو پتہ تھا عبدالخالق کون ہے ؟ لیکن آج 99 فیصد پاکستانیوں کو ایشین گیمز میں حصہ لینے والے 246 پاکستانی کھلاڑٖیوں میں سے 10 کے نام بھی پتہ نہیں ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تباہی آخر ہوئی کیسے ؟غور کریں تو بہت سے عوام ہیں جو مل کر پاکستانی کھیلوں پر اثر انداز ہوئے ہیں ،ان میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال سب سے بڑی وجہ ہے جس نے جسمانی ایکٹیوٹیز کو تقریبا ختم کر دیا ہے ،بڑھتی غربت دوسرا اہم ترین مسئلہ ہے ،کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی اس کی مڈل کلاس ہوتی ہے ،پاکستان کی تمام تر گروتھ بھی اسی مڈل کلاس کی دین ہے ،تعلیم کا میدان ہو یا کھیل ،مڈل کلاس ہی پاکستان کا نام روش کرتی رہی ہے ،گزشتہ 15 سالوں میں اس ملک کی مڈل کلاس سکڑ گئی ہے 70 فیصد لوگ لوئر مڈل کلاس ہو چکے ہیں اور 30 فیصد خط غربت کو چھو رہے ہیں ،ان حالات میں سپورٹس مین کہاں سے آئیں گے ،اس کے باوجود بہت سے سر پھرے کھیل کے میدان آباد کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، تو ان کو انتظامی معاملات آگے نہیں بڑھنے دیتے ،ہمارے ملک میں کبھی کہا جاتا ہے معاشی ایمر جنسی لگا دیں ،کبھی سنتے ہیں تعلیمی ایمر جنسی لگا دیں ،میں کہتا ہوں ایک مرتبہ کھیلوں کی ایمرجنسی لگا کر بھی دیکھ لیں ، شاید یہاں نارمل انسان پیدا ہونے لگیں، اور ایک متوازن معاشرے ترتیب دیا جا سکے
جو وقت کی ضرورت ہے ،کیونکہ وطن عزیز میں توازن ہی تو بگڑا ہوا ہے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔