تحریر: طارق وسیم
پاکستانی سیاست میں بلند قامت سیاستدانوں کا ذکر کیا جائے تو بے نظیر بھٹو صف اول میں کھڑی نظر آئیں گی ، ایک سابق وزیر اعظم کی ناز و نعم میں پلی بیٹی پر آزمائش پڑی تو اس نے ہمت اور جرات کا وہ مظاہرہ کیا کہ لوگ انگشت بدنداں رہ گئے .باپ گرفتار ہوا تو 24 سال کی پنکی ماں کے ، ساتھ میدان عمل میں اتر آئی .پارٹی پر برا وقت آیا تمام بڑے ساتھ چھوڑ گئے لیکن بے نظیر اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی کے لیے کوششیں کرتی رہی ۔
وقت نے وفا نہ کی اورذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا ہوئی۔یہ ایک ایسا دکھ تھا جسے بے نظیر بھٹو نے تا عمر گلے لگا کر رکھا ۔والد کاسایہ سرسے اٹھنےکے بعد بھائی شاہ نواز بھٹو کی فرانس کے شہر کینز میں پراسرار موت نے سب کو ہلاکررکھ دیا، پنکی یعنی بے نظیر بھٹویہ صدمہ بھی برداشت کر گئی۔
سیاست سے کوئی دلچسپی نہ ہونے کے ،باوجود اپنے والد کے نقش قد م پر چلتے ہوئے ،پارٹی کو مشکل وقت میں سنبھالا ،قیادت کی اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں،انہوں نے دو مرتبہ یہ اعزاز حاصل کیا ۔
دورا قتدار میں دوسری مرتبہ جب وہ وزیر اعظم تھیں تو کراچی میں ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو قتل کر دیا گیا،لیکن بے نظیر کی ہمت اور برداشت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ پاکستانی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کو رول ماڈل قرار دیا جاتا ہے تو بے نظیر بھٹو مزاحمت کا وہ استعارہ قرار دی گئیں جسے دنیا بھر میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ،جس کا ثبوت لندن کے مادام تساؤ میوزیم میں نصب دختر مشرق کا مومی مجسمہ ہے ، اپنے والد کی طرح وہ چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر میں یکساں مقبول تھیں اور ان کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہا جاتا تھا ۔
سیاستدان کا بہادر ہونا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکے لیکن بے نظیربھٹو ان سب سے ماورا تھیں۔ وہ تمام تر خطرات کے باوجود ، 1986 میں جلا وطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئیں تو لاہور میں ان کا وہ فقید المثال استقبال ہوا تھا ۔ یہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت اور سیاست کا سحر ہی تھا ،جس کی وجہ سے لاہور ایئر پورٹ سے مینار پاکستان تک انسانوں کی کثیر تعداداپنی محبوب لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے اور اس کا استقبال کرنے کو بے چین تھا۔
مال روڈ ،داتا دربار اور اپر مال کے علاقوں میں کوئی ایسی چھت نہیں تھی جہاں سے بے نظیر بھٹو کے قافلے پر پھول نہ برسائے گئے ہوں ۔ 27 دسمبر 2007 کو نشتر پارک میں پیپلز پارٹی کا جلسہ تھا اور بی بی کو اس بات کا اندازہ تھا کہ ان کی زندگی کو شدید خطرہ ہے ،انہوں نے جلسے سے دو روز قبل مسلسل اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا ،ان کی سکیورٹی بڑھا نے کی درخواست بھی کی گئی تھی اور جلسے سے 2 گھنٹے قبل ان سے کہا گیا تھا کہ اپنا خطاب ملتوی کر دیں لیکن ان کا جواب نفی تھا۔
پھر وہ تکلیف دہ گھڑی آ گئی جب دنیا کے لیے دختر مشرق ،جیالوں کی بی بی اور ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو کی پنکی 27 دسمبر کی شام 5 بجے کے قریب ہم سے جدا ہو گئیں ، وہ لمحہ سب کے لیے انتہائی کرب ناک تھا، پارٹی کے جیالے، متوالے الغرض سب لوگ جو بے نظیر بھٹو اور پارٹی کے پیرو کار تھے، ان پر یہ لمحہ انتہائی کرب ناک تھا، ہر طرف سوگ کی کیفیت تھی۔
ماضی گواہ ہے کہ 18 اکتوبر 2007 کو جب بے نظیر پاکستان واپس آئی تھیں تو کراچی ایئر پورٹ پر اترتے وقت بے اختیار رو پڑی تھیں ، شاید انہیں آنے والے دنو ں کا بہت اچھی طرح ادراک تھا ان کی شہادت پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے
"تم پھر نہ آسکوگے بتانا تو تھا مجھے
تم دور جا کے بس گئے میں ڈھونڈتا پھرا"
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔