پیرس / اسلام آباد: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقدہ جی سیون (G7) وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران ،اسرائیل کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ اجلاس میں سعودی عرب، برازیل، جنوبی کوریا، بھارت اور یوکرین کے نمائندوں کی شرکت نے اسے ایک عالمی سفارتی محاذ کی شکل دے دی ہے۔
جی سیون نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگی کارروائیوں کو فوری روکے اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس بحری گزرگاہ کو فوری طور پر بحال کرنے کا "حکم" دیا گیا ہے تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
اجلاس میں زور دیا گیا ہے کہ سمندری حدود میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ اور غیر قانونی ٹیکسز یا پابندیوں کے بحال کیا جائے۔ وزرائے خارجہ نے جنگ کے نتیجے میں سویلین انفراسٹرکچر کی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
اس بار جی سیون اجلاس کی خاص بات سعودی عرب اور بھارت جیسے ممالک کی موجودگی ہے۔ ماہرین اسے ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک مشترکہ کوشش دیکھ رہے ہیں تاکہ خطے کو ایک ہمہ گیر جنگ سے بچایا جا سکے۔ یوکرین کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے تنازعات کو ایک وسیع تر سیکیورٹی فریم ورک میں دیکھ رہی ہیں۔