اسلام آباد:چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ آخر کس بات پر معافی مانگیں؟
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا مؤقف ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی اور رول آف لا کا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی قسم کی "ڈیل" نہیں کر رہے۔
علیمہ خان نے دعویٰ کیا کہ 9 مئی کے بعد اصل توجہ 26ویں آئینی ترمیم پر ہونی چاہیے، جو ان کے مطابق ن لیگ نے پارلیمان میں پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو ایگزیکٹو کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ عدلیہ کو کمپرومائز کر دیا گیا ہے اور عمران خان کے کیسز سماعت کے لیے مقرر نہیں کیے جا رہے۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب تک ججز آزادانہ فیصلہ نہیں دیں گے، عمران خان کو رہائی نہیں ملے گی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی چاہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں ان کے حوالے کر دی جائیں، جو کہ غیر آئینی اقدام ہوگا۔