کراچی: حکومت سندھ نے صوبے میں مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے مقرر کر دی ہے۔ اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نیم ہنر مند افراد کی ماہانہ اجرت 41,380 روپے، ہنر مند افراد کی اجرت 49,628 روپے، اور اعلیٰ ہنر مند افراد کی اجرت 51,745 روپے مقرر کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو مزدوروں کو کم از کم 192 روپے فی گھنٹہ اجرت ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ سندھ منیمم ویجز ایکٹ 2015 کے تحت کیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔
یہ فیصلہ سندھ حکومت کی جانب سے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف مزدور طبقہ بلکہ صوبے کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
ماضی میں حکومت سندھ نے مزدوروں کی کم از کم اجرت 37 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی تھی، تاہم اب اس میں 3 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مزدوروں کی خریداری کی طاقت میں اضافہ ہو سکے۔
اس اقدام سے مزدوروں کے حالات بہتر ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے وہ اپنی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکیں گے۔