Get Alerts

جی میل کا کارآمد فیچر جس کے بارے میں آج بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے

جی میل کا کارآمد فیچر جس کے بارے میں آج بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے

کیلیفورنیا: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جی میل پر ای میل بھیجنے کے فوراً بعد احساس ہوتا ہے کہ پیغام غلط شخص کو چلا گیا ہے یا تحریر میں ایسی غلطی رہ گئی ہے جسے بھیجنے سے پہلے درست کیا جانا چاہیے تھا۔

بعض اوقات آٹو کریکٹ فیچر بھی الفاظ تبدیل کر دیتا ہے، جس سے جملوں کا مفہوم بدل جاتا ہے اور بعد میں صارف کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تاہم جی میل میں ایک ایسا مفید فیچر موجود ہے جو ان تمام مسائل سے بچا سکتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر بہت سے صارفین آج بھی اس سے واقف نہیں ہیں۔

یہ سہولت "Undo Send" کے نام سے دستیاب ہے، جس کی مدد سے بھیجی گئی ای میل کو چند سیکنڈ کے اندر واپس روکا جا سکتا ہے۔

گوگل نے اس فیچر کو پہلی مرتبہ مارچ 2009 میں جی میل کا حصہ بنایا تھا، تاہم ابتدائی برسوں میں یہ صرف Gmail Labs کے ذریعے دستیاب تھا اور صارفین کو اسے سیٹنگز سے فعال کرنا پڑتا تھا۔

بعد ازاں 2015 میں اسے تمام صارفین کے لیے مستقل فیچر کی حیثیت سے متعارف کرا دیا گیا، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ اس کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے۔

جی میل دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ای میل سروسز میں شمار ہوتی ہے اور گوگل اکاؤنٹ رکھنے والے تقریباً ہر صارف کے پاس جی میل بھی موجود ہوتا ہے۔

اگر ای میل بھیجنے کے بعد محسوس ہو کہ اس میں ترمیم کرنی ہے، غلط وصول کنندہ منتخب ہو گیا ہے یا پیغام بھیجنے کا ارادہ بدل گیا ہے تو "Undo Send" آپشن فوری مدد فراہم کرتا ہے۔

ای میل بھیجتے ہی اسکرین کے نچلے بائیں حصے میں چند سیکنڈ کے لیے Undo کا بٹن ظاہر ہوتا ہے۔ اس پر کلک کرتے ہی ای میل وصول کنندہ تک پہنچنے سے پہلے ہی واپس آ جاتی ہے اور دوبارہ ترمیم کے لیے کھل جاتی ہے۔

اس فیچر کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر ای میل واپس لے لی جائے تو سامنے والے شخص کو اس کی کوئی اطلاع نہیں ملتی۔

جی میل میں یہ وقت ابتدائی طور پر 5 سیکنڈ مقرر ہوتا ہے، تاہم صارفین سیٹنگز میں جا کر اسے بڑھا کر 30 سیکنڈ تک کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق Undo Send ایک نہایت کارآمد فیچر ہے، جو غلط پتے پر ای میل بھیجنے، تحریری غلطیوں یا آخری لمحے میں رائے تبدیل ہونے کی صورت میں صارفین کو اپنی ای میل روکنے اور درست کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ٹیگز: