اسلام آباد/کابل:بین الاقوامی جریدوں اور دفاعی ماہرین کی حالیہ رپورٹس نے افغان طالبان رجیم اور دہشت گرد گروہ "فتنۃ الخوارج" کے درمیان گہرے روابط کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں دہشت گردی کی لہر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایک معتبر بین الاقوامی جریدے نے اپنی حالیہ اشاعت میں دستاویزی شواہد کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ حکومت ناصرف فتنۃ الخوارج کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں مالی اور عسکری معاونت بھی دے رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم اور خوارج کے درمیان یہ "بھیانک گٹھ جوڑ" اب محض نظریاتی نہیں رہا بلکہ عملی طور پر دہشت گردانہ کارروائیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی یہ پالیسی پورے خطے کے لیے ایک بڑا سکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی نرسری بنتا جا رہا ہے، جہاں سے پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ممالک اس گٹھ جوڑ کی وجہ سے شدید تشویش کا شکار ہیں، کیونکہ دہشت گردی کا یہ کینسر سرحدوں سے تجاوز کر رہا ہے۔
عالمی برادری کے سامنے افغان طالبان کا یہ دعویٰ کہ "افغان سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی"، اب مکمل طور پر جھوٹ ثابت ہو رہا ہے۔
پاکستان کے اضلاع خیبر اور بنوں میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والا اسلحہ اور ان کے سرحد پار رابطے اس سرپرستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔