Get Alerts

کراچی: گٹر میں گرنے والا 3 سالہ بچہ 12 گھنٹے بعد بھی نہ مل سکا، شہریوں کا احتجاج

کراچی: گٹر میں گرنے والا 3 سالہ بچہ 12 گھنٹے بعد بھی نہ مل سکا، شہریوں کا احتجاج

کراچی : کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب ایک 3 سالہ بچہ ابراہیم رات 11 بجے کے قریب کھلے مین ہول میں گر گیا، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں نے بچے کی تلاش شروع کر دی۔ تاہم، 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود بچہ ابھی تک نہیں مل سکا، جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔

ریسکیو حکام کے مطابق، بچے کی تلاش کے لیے پانچ مختلف مقامات پر کھدائی کی گئی، لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ حکام نے بتایا کہ انہیں اس سرچ آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ متعلقہ محکموں کا عملہ موقع پر نہیں پہنچا اور مشینری بھی دستیاب نہیں تھی۔

ذرائع کے مطابق، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کا عملہ ابھی تک جائے حادثہ پر نہیں پہنچا تھا۔ شروع میں کام کرنے والی مشینری بھی چلی گئی تھی، جس پر شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور کھدائی کا عمل جاری رکھا۔

بچے کے والدین کے مطابق، ابراہیم شاپنگ کے لیے اپنے والدین کے ساتھ آیا تھا۔ جب وہ باہر نکلے، تو بچہ اچانک ہاتھ چھڑا کر دوڑ گیا اور مین ہول میں گر گیا، کیونکہ مین ہول کا ڈھکن نہیں تھا۔ بچے کے دادا محمود الحسن نے بتایا کہ بچے کا والد موٹر سائیکل کھڑی کر رہا تھا، اور بچہ اس کے پیچھے آ کر گٹر میں جا گرا۔

ابراہیم کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ ریسکیو آپریشن سے مطمئن نہیں ہیں اور مزید مشینری بھیجنے اور تلاش کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بچے کی والدہ کی حالت غیر ہو چکی ہے اور وہ مسلسل روتی رہتی ہیں۔

اس دوران مشتعل شہریوں نے نیپا چورنگی پر احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔ مظاہرین نے سڑک پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور پتھراؤ بھی کیا، جس میں میڈیا کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ میڈیا پر ہونے والے حملے میں نجی چینلز کی گاڑیوں کو توڑا گیا۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا، اس کی تحقیقات کی جائیں گی اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کر دیا ہے اور بچے کی جلد بازیاب ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اور کے ایم سی عملہ موقع پر موجود ہیں، جبکہ واٹر کارپوریشن اور سندھ سالٹ ویسٹ کا عملہ بھی تلاش کے عمل میں شریک ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں رواں سال کھلے مین ہولز اور نالوں کی وجہ سے 24 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں 19 مرد اور 5 بچے شامل ہیں۔

ٹیگز: