Get Alerts

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت، اسرائیل اور امریکا کے حملے کے بعد بحران شدت اختیار کر گیا

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت، اسرائیل اور امریکا کے حملے کے بعد بحران شدت اختیار کر گیا

تہران : ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی اور اسرائیلی فورسز کے حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے دفتر میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے۔ اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ان کا بیٹا، بہو اور نواسی بھی شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس حملے میں ایران کے 40 سے زیادہ حکام کو قتل کیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد 7 روزہ تعطیلات اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے اس حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں پر نئی لہر کے حملوں کا آغاز کیا ہے۔ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت ایک "عظیم جرم" ہے جس کا حساب لیا جائے گا اور ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔ ایرانی حکومت نے اس حملے کے نتیجے میں اپنی فوجی فورسز کو مکمل طور پر متحرک کر دیا ہے اور اسرائیل و امریکا کے اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

ایران کی طرف سے حملوں کے بعد عراقی مزاحمت نے امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، جن میں کردستان کے اربیل ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی فورسز نے اسرائیل کے تل نوف ایئر بیس اور تل ابیب میں دفاعی کمپلیکس پر بھی حملے کیے ہیں۔ ایران نے اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اور اسرائیل کے مختلف شہروں میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں بڑی تباہی آئی ہے۔

اسرائیل اور امریکا نے ایران کے حملوں کا جواب دینے کے لیے اپنے دفاعی نظام کو فعال کر دیا ہے۔ اسرائیل نے ایران کے میزائلوں کو روکنے کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا ہے، اور اسرائیلی حکومت نے اپنی شہریوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کر دی ہے۔ امریکا نے ایران پر مزید بمباری کی دھمکی دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایرانی فورسز کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد پورے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں، اور وہاں پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ اسرائیل نے مغربی اور وسطی ایران میں 30 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، اس حملے میں 86 بچیوں سمیت 201 ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں۔ ایرانی میڈیا نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی، معاون محمد شیرازی، اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی حملے میں شہید ہو چکے ہیں۔

ایران نے اس حملے کے بعد اپنے فوجی کمانڈروں اور حکام کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف فیصلہ کن انتقام لیں گے اور ان کے اڈوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔ ایران نے اپنی فوجی فورسز کو مکمل جنگی تیاریوں میں لگا دیا ہے، اور یہ حملے صرف ایک ابتدائی مرحلہ ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خامنہ ای کی شہادت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی عوام اور دنیا کے لیے ایک "انصاف" کا لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایرانی عوام کے پاس اپنی تقدیر خود بدلنے کا موقع ہے۔ تاہم ایران نے اس حملے کے بعد اسرائیل اور امریکا کو جواب دینے کی دھمکی دی ہے، اور دونوں ممالک کو اس کارروائی کی قیمت چکانے کا عندیہ دیا ہے۔

ٹیگز: