Get Alerts

     خدا کے رضاکار

     خدا کے رضاکار

تحریر: طارق وسیم

امریکہ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کردیا ہے۔ امریکی حملے میں اعلی قیادت سمیت بہت سے افراد جاں بحق  ہو چکے ہیں۔ایرانی میں سات روز کی تعطیلات اور  چالیس روزہ سوگ کا اعلان کردیا گیا ہے ۔صدر ٹرمپ کہتے ہیں ایرانی فوج ،پاسداران  انقلاب اور دیگر ادارے اب مزید لڑنا نہیں چاہتے،ادھر  ایرانی فوج  کا کہنا ہے کہ وہ خامنہ  ای کا بدلہ لیں گے  ۔سپریم لیڈ ر  کے  جاں بحق ہونے کے بعد  ایران نے خلیجی ممالک کے ان مقامات پر ڈرون حملے اور میزائل فائر کیے     جو اس کے نزدیک ہیں ،قطر ،بحرین ،دبئی ،ابو ظہبی ،ریاض میں میزائل گرے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ،کویت پر بھی میزائل فائر کیے گئے ،تل ابیب پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا ،جو وقفے وقفے سے   جاری ہے ۔
دنیا بھر میں تین ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کی جن میں پاکستان،سعودی  عرب  روس  شامل ہیں ،مرکزی قیادت کے مارے جانے کے بعد اگرچہ ایرانی نائب صدر اور علی لاریجانی نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں لیکن اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایران کا مستقبل کیا ہوگا ۔ سابق شہنشاہ ایران احمد رضا شاہ پہلوی کا بیٹا  رضا پہلوی ایرانی عوام کو اکسا رہا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور اقتدار پر قبضہ کر لیں   ،د نیا بھر   میں  موجود ایرانیوں کی وطن واپسی کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں ،بظاہر لگتا یہی ہے کہ اگلے چند روز  ایران میں عوامی قوت کا مظاہرہ کیا جائےگا ۔آیت اللہ خامنہ ای اور رضا شاہ پہلوی کے حمایتی اپنی اپنی قوت دکھائیں گے ،اس دوران دنیا بھر   میں موجود وہ ایرانی جو  خامنہ ای کے دور میں ملک چھوڑ گئے تھے واپس آئیں گے ، رضاپہلوی  ان کی قیادت کریں گے ۔
خامنہ ای کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ بھی ہوئی تو امریکہ یورپ،اور وہ تمام خلیجی ممالک جن پر ایران کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے ہیں یہ حکومت قائم کرنے میں مدد فراہم کریں گے ۔دنیا کو بتایا  جائے گا کہ ایک انتہا پسند رجیم سے چھٹکارا حاصل کر کے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو درپیش خطرے سے جان چھڑا لی گئی ہے ۔ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ترک کر دے گا ،میزائل ٹیکنالوجی پر بھی امریکی ہدایات کے مطابق کام کیا جائے گا ،توقع کی جانی چاہیے  کہ  رضا پہلوی کی حکومت میں خواتین کی خاصی بڑی تعداد میں نمائندگی ہو گی ۔یوں مشرق وسطیٰ میں ایک نیا دور شروع ہوگا جس  میں خطے کی دو بڑی طاقتیں یعنی سعودی عرب اور ایران اپنے سافٹ امیج کے ساتھ آگے  بڑھیں گی ۔
شہزادہ محمد بن سلمان یہ کام پہلے ہی جاری رکھے ہوئے ہیں  اس سارے عمل میں ایرانی فوج میں موجود وہ عناصر جو اسرائیل اور امریکہ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ لبرل قوتوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران سے ایک کٹر اور شدت پسند رجیم کا خاتمہ کرکے مشرق وسطیٰ میں امن بحال کرنے کا دعویدار امریکہ جس نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہے، وہ بھی تو ایک انتہا پسند مذہبی جنونی ہے ،آپ دو ملکوں کے لیے علیحدہ معیار کیسے رکھ سکتے ہیں؟۔مذہبی انتہا پسندی مسلمان کی ہو یا یہودی کی ،انسانیت کے لیے یکساں خطرناک ہے ،لیکن یہاں  مسئلہ شدت پسندی کا نہیں تو سیع پسندی کا ہے ۔اسرائیل فلسطین    سمیت تما م مشرق وسطیٰ کا جغرافیہ بدلنا چاہتا ہے ،یہودی  ساری دنیا پر غلبے کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں  جس کا مرکزی کردارنیتن یاہو اور اس میں بنیادی رکاوٹ آ یت  اللہ خامنہ ای تھے ۔مسلمانوں کو شدت پسند کہنے والا امریکہ  اور تمام یورپی مماملک دراصل خود مذہبی جنونی ہیں ،یہ سب آج بھی دنیا میں موجود یہودی اقلیت سے ذہنی طور پر مرعوب ہیں۔ دنیا پر بنی اسرائیل کی حکومت چاہتے ہیں ،واحد یورپی ملک روس ہے جو اس شدت پسندانہ سوچ کا مخالف ہے ،اسی لیے یہ تمام لوگ روس کے مخالف ہیں ،ان لوگوں کی اپنی بنائی ہوئی کہانیاں بھی صدیوں سے گردش میں ہیں ،انہیں کسی یہووہ کی آمد کا انتظار ہے ۔
یروشلم میں دیوار گریہ گرانی ہے ،غرقد کے درخت لگانے ہیں اور دنیا بھر میں اپنی حکومت قائم کرنی ہے ،یوں وہ بنی اسرائیل جو اس سے قبل کئی مرتبہ راندہ درگاہ ہوچکے اپنی عظمت واپس حاصل کر لیں گے ،  لیکن کیا یہ سب  ہو پائے گا ؟ایران احمد  رضا شاہ پہلوی کے دور میں  ایک بھرپور فوجی قوت رکھتا تھا جسے عراق سے لڑوا کر اس کی تمام فوجی قوت ختم کر دی گئی تھی ،اسی قسم کا پلان پاکستان کے بارے میں بھی بنایا  گیا ہے جس کے مطابق، افغانستان اور بھارت کے ذریعے اس مستقل انگیج رکھا جانا مقصود ہے،، تاکہ اس کی فوجی قوت  کم ہو،دوسری جانب ایران میں بننے والی نئی حکومت بھی کیونکہ اسرائیل نواز ہوگی تو وہ بھی پاکستان کو تنگ کر سکے گی ،یوں آہستہ آہستہ پاکستان کو کمزور کر کے اس  پر قابو پایا جائے گا ،اور جب یہ کانٹا راستے سے نکل جائے گا تو دنیا بھر میں ون ورلڈ آرڈر کا نفاذ ہوگا جس کا چہرہ امریکہ اور در پردہ اسرائیل اور صیہونی قوتیں ہوں گی ۔پلان اچھا ہے ،لیکن پاکستان  نہ تو ایران ہے ،نہ بھارت اور نہ افغانستان،آپ اس کے چاروں بارڈرز پر اپنی حواری بٹھا دیں ،یہ ان کو خاک میں ملاتا چلا جائے گا ،اگلے دو روز میں آپ  دیکھیں گے افغانستان کے  ساتھ  کیا ہوتا ہے ، بھارت نے کوئی چوں چراں کی تو  ہمیں وہاں ایک ہزار سال حکومت کرنے کا تجربہ ہے ،ایران میں پہلے آپ حکومت  بنالیں ،پھر وہاں سے جو رویہ اختیار کیا جائے گا پاکستان سے  اس کے مطابق ر د عمل بھی مل جائے گا ،یورپ ترکی سے خوف زدہ ہے ،کرد ابھی اس منظر نامے میں شریک  ہی  نہیں ہیں   اور آپ  سمجھتے ہیں  آپ نے  اپنے کارڈز بہت اچھی طرح کھیلے ہیں ،یہ بھول ہے آپکی ، چین اور روس کی مدد کے بغیر ہی وہ کچھ کیا جاسکتا ہے  جو آپ  سوچ بھی نہیں سکتے۔
 امریکہ کسی حد تک اس سے آگاہ ہے ،تاریخ سب کے ساتھ انصاف کرتی ہے ،آپ آیت اللہ خامنہ ای کو ساتھیوں سمیت  ہلاک   کریں صرف اس لیے کہ آپ طاقتور ہیں تو یاد رکھیں ،کسی نہ کسی کو تو اس کا بدلہ لینا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہو ،نیتن یاہو یا  یورپ کے جغادری ،باری  سب کی آئے گی ،اور ایرانی نہیں ،،خدا کے رضا کار یہ بدلہ لیں گے۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: