کابل / جلال آباد : افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں گزشتہ رات آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں کم از کم 622افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوگئے۔ زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی محسوس کیے گئے، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی ہے، جس کا مرکز ننگرہار کے شہر جلال آباد کے قریب تھا۔ زلزلے کی گہرائی 8 کلومیٹر تھی۔ زلزلہ رات 11 بج کر 47 منٹ پر آیا، جبکہ تقریباً 20 منٹ بعد اسی علاقے میں 4.5 شدت کا آفٹر شاک بھی محسوس کیا گیا، جس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔
مقامی حکام کے مطابق، زلزلے کے باعث ضلع نورگل کے متعدد دیہات مکمل طور پر ملبے تلے دب چکے ہیں، اور خدشہ ہے کہ سیکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ دور دراز علاقوں سے رابطہ بحال ہونے میں وقت لگ رہا ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے رات گئے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ زلزلے کے باعث شدید جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق، مقامی حکام اور رضاکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جب کہ مرکز اور قریبی صوبوں سے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت لاہور، پشاور، مردان، چکوال، ٹیکسلا، واہ کینٹ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، چترال اور دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق، پاکستان میں زلزلے کی شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ رات 12 بج کر 38 منٹ پر 4.6 شدت کے آفٹر شاکس بھی رپورٹ ہوئے۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی اداروں سے تعاون کریں، ملبے تلے دبے افراد کی اطلاع فوری دیں، اور غیر ضروری افواہوں سے گریز کریں۔ شدید متاثرہ علاقوں میں اشیائے ضروریہ، طبی امداد اور خیموں کی فوری ضرورت ہے۔