اسلام آباد:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ کے خلاف بلاو ل بھٹو نے آواز بلند کر دی ۔ بلاول نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں رونالڈ ریگن عمارت سے خطاب کے دوران کہا کہ ہم نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ جب ہم مسلسل شراکت داری قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ملک میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی دیکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم ہر سال پاکستان کو بڑے پیمانے پر ادائیگی کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید یہ بھی کہا کہ پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی امداد دے کرامریکہ نے سب سے بڑی غلطی کی ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پر بلاول بھٹو نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوکسی ڈکٹیشن کی ضرورت نہیں!! اور ملکی مفاد میں انتہا پسندی کا خاتمہ کریں گے ۔
Someone please explain to @realDonaldTrump difference between coalition support fund reimbursement for work done & USaid ostensibly given for humanitarian reasons, to win hearts & minds.Cutting off moneys owed for assistance already rendered does not encourage further cooperation
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) January 2, 2018
پیپلزپارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے ۔
The US just wants to ‘win’ in Afghanistan/Iraq/Syria & the many quagmires they are involved with. No plan to get out. All they are left with is excuses, blame games and denial.
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) January 2, 2018
جبکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنے پر زور دے رہے ہیں،،ان کا کہنا ہے امریکی دھمکیوں پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور معاملے کا حل نکالا جائے۔