اسلام آباد : چیئرمین پیپلزپارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، اور آج بھی ہر اول دستے کے طور پر فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر اس عالمی مسئلے کے خاتمے کے لیے تعاون کرے۔
ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا عنوان تھا "دنیا کے لیے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ" ہے میں بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگردی پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور پاکستان نے اس کے خلاف سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ "سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں"۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اقدامات نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے، اور ہماری افواج نے دو دہائیوں میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا۔ اس جنگ میں پاکستان نے 92 ہزار جانوں کی قربانی دی۔
بلاول نے ڈیجیٹل پروپیگنڈا کو بھی موجودہ دور کا نیا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ ہمیں صرف بندوق سے نہیں، بلکہ معلومات کی جنگ سے بھی لڑنا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ طالبان حکومت آنے کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کرے۔
بلاول بھٹو نے بھارتی قیادت کو بھی مخاطب کیا اور کہا کہ بھارت کو الزام تراشی کے بجائے خطے کے امن کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی طرف آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک تصفیہ طلب مسئلہ ہے اور اس پر بات چیت کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔ ساتھ ہی بھارت کو خبردار کیا کہ وہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روش بند کرے۔
آخر میں بلاول نے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں فائر وال نہیں بلکہ تیز انٹرنیٹ، تعلیم اور روزگار کے مواقع دیے جانے چاہییں، تاکہ ہم آگے بڑھ سکیں۔