Get Alerts

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: صدر آصف زرداری کا  خطاب، بھارت اور طالبان انتظامیہ کو دوٹوک وارننگ

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: صدر آصف زرداری کا  خطاب، بھارت اور طالبان انتظامیہ کو دوٹوک وارننگ

اسلام آباد :سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے نویں تاریخی خطاب کے ذریعے ملک کی سیاسی و عسکری صورتحال، علاقائی سلامتی اور معاشی عزم کا روڈ میپ پیش کیا۔ اجلاس کا آغاز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور فتنہ الخوارج کے خلاف برسرِ پیکار شہدا کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا۔
صدر زرداری نے اپنے خطاب میں 2025 کو پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "معرکہ حق" میں ہماری افواج نے بھارتی جارحیت کو تاریخی تزویراتی (Strategic) فتح میں بدل دیا۔ صدر نے انکشاف کیا کہ 26 فروری کی رات طالبان رجیم کی دراندازی پر سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن کارروائی کی اور واضح کر دیا کہ ریڈ لائن پار کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے پاکستان کی اصولی کارروائی کو تسلیم کیا ہے اور اقوامِ متحدہ کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خود مختاری کے دفاع کا مکمل حق دیتا ہے۔
صدرِ مملکت نے بھارتی قیادت کی جنگجویانہ سوچ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا   اگر بھارت نے دوبارہ مہم جوئی کی تو اسے ایک اور ذلت آمیز شکست کے لیے تیار رہنا چاہیے۔انہوں نے اعادہ کیا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر آزاد نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہو سکتا۔ بھارت کو جنگ کے میدان کے بجائے مذاکرات کی میز کی طرف آنا ہوگا۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے جو اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے حوالے سے صدر نے دوٹوک موقف اختیار کیا  کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے عالمی ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ افغانی دہشت گرد اب ایک عالمی خطرہ بن چکے ہیں۔

ٹیگز: