لاہور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے مزنگ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں 45 سالہ ملزم شاہد نے مبینہ طور پر اپنی خاتون دوست عائشہ پرویز کے گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں خاتون اور اس کے دو بچے جاں بحق ہو گئے۔ ملزم نے تہرے قتل کی اس وحشیانہ واردات کے بعد خود کو بھی گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ملزم شاہد زبردستی عائشہ کے گھر میں داخل ہوا اور وہاں موجود افراد پر پستول کے دہانے کھول دیے۔ ملزم شاہد نے ان تینوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے فوراً بعد اسی اسلحے سے خود کو بھی ہلاک کر لیا۔فائرنگ کی زد میں آکر گھر میں موجود دیگر دو بچیاں، 8 سالہ مناہل اور 18 سالہ سمنہ گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں۔ انہیں فوری طور پر تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔