Get Alerts

مزارِ اقبالؒ پر 'معرکہ حق' کی پُرعزم تقریب: راحت فتح علی خان کے کلام اور وائس چانسلرز کے خطاب نے جوش جگا دیا

مزارِ اقبالؒ پر 'معرکہ حق' کی پُرعزم تقریب: راحت فتح علی خان کے کلام اور وائس چانسلرز کے خطاب نے جوش جگا دیا

لاہور: لاہور کے تاریخی مزارِ اقبالؒ پر "معرکہ حق" کی مناسبت سے ایک پُر وقار اور یادگار تقریب منعقد ہوئی، جس میں تعلیمی ماہرین، گلوکاروں اور نوجوان نسل نے حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کے فلسفے اور ملکی دفاع کے عزم کو یکجا کر دیا۔ تقریب کا مقصد مفکرِ پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور نئی نسل کو نظریۂ پاکستان سے روشناس کروانا تھا۔
تقریب کے آغاز پر مختلف سکولوں اور کالجوں کے طلباء و طالبات نے مزارِ اقبالؒ پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔ مزار کا احاطہ حب الوطنی کے جذبے اور شاہین صفت نوجوانوں کی موجودگی سے معطر رہا۔
تقریب اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنے مخصوص انداز میں اقبالؒ کی شہرہ آفاق دعا "لب پہ آتی ہے دعا" اور دیگر کلام پیش کر کے حاضرین کو وجد میں ڈال دیا۔    گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے بھی کلامِ اقبالؒ پیش کر کے محفل کو گرما دیا۔    میمونہ ساجد نے جب "ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان" پیش کیا تو پنڈال تالیوں اور داد سے گونج اٹھا۔
پاکستان کی صفِ اول کی جامعات کے سربراہان نے تقریب میں خصوصی شرکت کر کے اسے علمی وقار بخشا، جن میں شامل تھے۔    ڈاکٹر شاہد منیر (VC UET)، ڈاکٹر خالد مسعود گوندل (پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج)، ڈاکٹر ارم (پرنسپل کنیرڈ کالج)۔    ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ (UMT)، ڈاکٹر بسیرا امبرین (پنجاب یونیورسٹی)، ڈاکٹر ریحانہ (LCWU)، ڈاکٹر شہزاد حسین (GCU)۔    ڈاکٹر محمد نظام (سپیریئر یونیورسٹی) اور پروفیسر ڈاکٹر ندیم جعفر۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’معرکہ حق‘‘ کی کامیابی دراصل علامہ اقبالؒ کے خودی کے فلسفے اور دو قومی نظریے کی عملی فتح ہے۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے جوان اقبالؒ کے ان شاہینوں کی مانند ہیں جو وطن کی حرمت پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔
تقریب کے اختتام پر ملکی استحکام اور پاکستان کی ترقی کے لیے رقت آمیز دعا کی گئی، جبکہ شرکاء نے حب الوطنی کے اس عظیم مظاہرے کو نئی نسل کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔

ٹیگز: