اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اپنے فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا اور اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں اور افغانستان کے ساتھ تعلقات پر قومی اتفاقِ رائے موجود ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام افغان طالبان کی سرپرستی میں بھارتی پراکسیز کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت اپنے اندرونی مسائل اور تقسیم کے سبب عالمی سطح پر کوئی کامیاب پالیسی نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا اور افغانستان میں خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان داخلی بحران سے بچنے کے لیے بیرونی ایجنڈوں پر عمل کر رہے ہیں اور پاکستانی سرحدوں کے قریب ان کی پالیسیوں سے دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔
پاکستان کی افغان پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ یہ پالیسی قومی مفاد، علاقائی امن اور استحکام کے حصول کے لیے ہے، اور پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات سے حقیقت نہیں بدل سکتی اور اعتماد صرف عملی اقدامات سے قائم کیا جا سکتا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق، پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات کو بلا خوف جاری رکھے گا۔