خرطوم: سوڈان میں جاری خانہ جنگی کی صورتحال دن بدن بدتر ہوتی جا رہی ہے، اور اب شہریوں کو اجتماعی طور پر پھانسیاں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے قبضے کے بعد حالات انتہائی تباہ کن ہوگئے ہیں۔ مغربی کردفان میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق، جنگجوؤں نے گھروں میں گھس کر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ امریکی میڈیا نے یہ اطلاع دی ہے کہ الفاشر میں گزشتہ دنوں 1700 سے زائد افراد کو نسل کشی کا شکار بنایا گیا۔ اس تنازعہ میں اب تک 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔
سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورس کے قبضے کے بعد شہر میں نسلی بنیادوں پر جنسی زیادتیوں، تشدد اور دیگر مظالم کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ الفاشر میں تقریباً ایک لاکھ 77 ہزار عام شہری پھنسے ہوئے ہیں جو محفوظ مقامات تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورس نے نہتے شہریوں پر حملے کیے جن میں ہزاروں افراد مارے گئے، اور ان کے ساتھ مختلف نسلوں کی بنیاد پر تشدد کیا گیا۔
سوڈان کی خانہ جنگی کے اثرات نہ صرف وہاں کے لوگوں پر بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ تنازعہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوڈان میں جاری مظالم کی شدید مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے اس بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔