اسلام آباد :وزیراعظم شہباز شریف کی آزادکشمیر کیلئےمذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کو مثبت قدم قرار دیاجارہا ہے۔اس وجہ سے مسائل کے حل میں امید افزا پیش رفت کی توقع کی جارہی ہے ۔ اعلیٰ سطح مذاکراتی کمیٹی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر سیاسی قائدین شامل ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے آزادکشمیر کے عوام کے لیے 23 ارب روپے کا خصوصی ریلیف پیکج بھی دیا ہے، جو کشمیری عوام سے ان کی محبت اور پختہ وابستگی کا مظہر ہے۔ وزیر اعظم نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی اور ناخوشگوار واقعات کی شفاف و غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا۔ ساتھ ہی متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا موقف ہے کہ مسائل کے حل کا بہترین راستہ بات چیت اور جمہوری سیاسی عمل ہے، اور مظاہرین کو بھی جمہوری اور سیاسی رویے سے جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب نہ دیا تو اس سے ظاہر ہوگا کہ ان کا اصل ایجنڈا کچھ اور ہے۔
مذاکراتی کمیٹی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مشیر اور سینئر راہنما سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزراء سردار یوسف، احسن اقبال، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان، اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ شامل ہیں، جنہیں سیاسی معاملات کو بہتر طور پر سنبھالنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پہلے بھی وفاقی وزراء امیر مقام اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو مظفرآباد بھیجا تھا جہاں انہوں نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کیے، تاہم نئے مطالبات پر صورتحال کشیدہ ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے بعد کسی قسم کے انتشار، بے چینی اور احتجاج کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
وزیراعظم نے پرامن احتجاج کو آئینی و جمہوری حق تسلیم کرتے ہوئے آزادکشمیر کے عوام کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ ساتھ ہی مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اور نجی املاک کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہمیشہ سے یہی روایت رہی ہے کہ آئین، قانون اور جمہوری روایات کے مطابق عوامی جذبات کا احترام کیا جائے۔ حکومت پاکستان نے ہمیشہ آزادجموں و کشمیر کے عوام کے مسائل کو اولین ترجیح دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکراتی کمیٹی کو فوری سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مسائل کا جلد از جلد حل نکالا جا سکے۔ وطن واپسی پر وزیراعظم خود مذاکراتی عمل کی براہ راست نگرانی کریں گے۔