اسلام آباد: ماہر قانون عاصمہ جہانگیرکاکہنا ہے کہ پانامہ کیس میں اسٹیبلشمنٹ کے فٹ پرنٹ صاف ظاہرآئے، جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی ایک جج نے گاڈ فادر کا فیصلہ سنایا۔ انہوں نے کہا کہ کیس چلا تو لگا ہیروں کی بوریاں نکلیں گی مگر نکلا صرف اقامہ،کوئی ایک کیس دکھا دیں جس میں سپریم کورٹ نے غریبوں کو حقوق دلوائے ہوں ۔کبھی نواز شریف کی حامی نہیں رہی،میں شروع سے آئین کے آرٹیکل62اور63کی ناقد ہوں۔ 18ویں ترمیم کے وقت بھی کہا تھا 62،63 میں ترمیم کی جائے۔
عاصمہ جہانگیرنے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پانامہ کیس کو میڈیا نے میڈیا ٹرائل بنایا۔میں نے کبھی مسلم لیگ(ن) کو ووٹ نہیں دیا میں ہمیشہ سے ہی پیپلز پارٹی کی ووٹر رہی ہوں ، میرا جھگڑا کسی فرد یا پارٹی سے نہیں ہے۔ میرا جھگڑا پارلیمنٹ کے ساتھ ہے، آئین و قانون کی بالادستی کے لئے پارلیمنٹ کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ اس سے غفلت برت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی نااہلی کے وقت ہم نے سوچا تھا کہ ہیروں کی بوریاں نکلیں گی مگر ان کی نا اہلی کا موجب اقامہ بنا ۔ معاملہ نیب میں چلا گیا مجھے اختلاف نہیں سیاست میں گالی گلوچ کا کلچر انتہائی تکلیف دہ ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کیلیے جو الفاظ استعمال کیے گئے اس پر افسوس ہوا، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کے دلوں میں بستے ہیں ، سری نگر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف ہم آواز بلند کرتے رہے ہیں، پاکستان اور بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کی بجائے تعلقات میں بہتری کے لئے کوششیں کرنی چاہیں۔