Get Alerts

لفظ "پاکستان" کے خالق چودھری رحمت علی کی 75 ویں برسی منائی جا رہی ہے

 لفظ

لاہور : آج پاکستان کے عظیم محسن اور لفظ "پاکستان" کے خالق چودھری رحمت علی کی 75 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ چودھری رحمت علی نے آزادی کے لیے اپنے قول و فعل، قانون اور قلم کے ذریعے جدوجہد کی اور ہر فورم پر اس مقصد کے لیے آواز بلند کی۔

چودھری رحمت علی 16 نومبر 1897ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ ان کی آزادی کی تحریک کا آغاز 1915ء میں ہوا جب بزمِ شبلی کے ایک اجلاس میں انہوں نے پہلی بار ہندوستان کے شمالی علاقوں کو ایک مسلم ریاست میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کیا۔

1918ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد وہ "کشمیر گزٹ" اخبار سے بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر جڑ گئے۔ پھر 1928ء میں ایچی سن کالج لاہور میں لیکچرار مقرر ہوئے، لیکن جلد ہی انگلینڈ روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے سیاسیات اور قانون میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔

چودھری رحمت علی کا سب سے بڑا کارنامہ 28 جنوری 1933ء کو ہوا جب انہوں نے دوسری گول میز کانفرنس کے دوران مشہور کتابچہ "ابھی یا کبھی نہیں" شائع کیا۔ اس کتابچے میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا، جو بعد میں "پاکستان" کے نام سے معروف ہوا۔ اسی دن ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے لفظ "پاکستان" نیا تھا اور اسی دن انہوں نے اس لفظ سے آشنائی حاصل کی۔

یہ کتابچہ پورے برطانیہ اور ہندوستان میں مقبول ہوا اور اس نے مسلمانوں کے درمیان ایک نیا عزم اور جوش پیدا کیا۔ اور پھر 14 اگست 1947ء کو چودھری رحمت علی کا خواب حقیقت بن گیا جب پاکستان وجود میں آیا۔

چودھری رحمت علی 3 فروری 1951ء کو انگلینڈ کے شہر کیمبرج میں نمونیا کے باعث وفات پا گئے اور وہاں کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کی 75 ویں برسی پر ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد کو یاد کرتے ہیں جس کی بدولت ہمیں آج ایک آزاد ملک ملا۔

ٹیگز: