تحریر: طارق وسیم
نئے سال کاآغاز اور موسم سرد تھا ،راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا کہ اچانک انٹر نیٹ پر ایک غلغلہ سا اٹھا ۔چیک کیا تو معلوم ہوا ،اداکارہ فضیلہ قاضی کے فرزند ارجمند زورین جو امریکہ میں زیر تعلیم ہیں، کوئی آرٹیکل لکھ بیٹھے ہیں جس کے بارے میں موصوف کو خود بھی ،کچھ نہیں پتہ، بس آمد ہوئی تھی سو لکھ مارا۔ ورنہ بھائی تو اپنی والدہ کے یوٹیوب کوکنگ چینل پر ان کے ہمراہ کھانے پکانے کی ریسی پیز بتاتے نظر آتے ہیں ۔ آرٹیکل پڑھنے کا سوچا توپتہ چلا وہ تو نجی انگریزی اخبارمیں شائع ہوا جسے ہٹا دیاگیا ہے ۔
ہم بھی زورین کا آرٹیکل پڑھناچاہتے تھا ،تاکہ بحیثیت طالبعلم اس تحریر سے کچھ حاصل کر سکیں ۔ آرٹیکل پڑھا تو سوچ میں پڑ گئے کہ بھائی کہنا کیا چاہتا ہے ،خود کو جنریشن زی کا نمائندہ ثابت کرتے نظامانی صاحب نے وہی پرانا مرثیہ لکھ چھوڑا تھا جو ہم تین سال سے سنتے آرہے ہیں۔ کہتے ہیں جین زی بومرز یعنی عمر رسیدہ لوگوں کے اقتدار سے بہت اکتائی ہوئی ہے حتی کہ ملک چھوڑنے کے درپے ہے۔ مضمون پڑھ کر اس مینڈ ک کا خیال دل میں آگیا، جو کنویں سے باہر آ کر دنیا دیکھتے ہوئے یہی سمجھتا ہے کہ وہ واحد جاندار ہے، جس نے یہ دنیا دیکھی ہے اور پہلی با ر دیکھی ہے، جبکہ دور پانی کے جوہڑ کنارے بیٹھے دیگر مینڈک جو اس سے قبل کنویں سے باہر آچکے تھے ،اسے دیکھ کر ہنس رہے ہوتے ہیں ۔
اس حوالے سے زورین نظامانی کاا یک بیان بھی سامنے ا ٓگیا ،جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا مضمون کسی کے خلاف نہیں تھا ۔اس پر ازراہ تفنن یہ کہ آئندہ اپنی ماما سے پوچھ کر لکھا کروں گاکیونکہ انہوں نے مجھے آرٹیکل لکھنے سے منع کر دیا ہے ۔ بس یہ تھا کہ ہم نے اپنے بزرگوں کی تلوا راٹھا کر واپس خاندانی صندوق میں رکھ دی ۔ جنریشن زی نہ صحیح ہمارا تعلق جنریشن ایکس سے تو ہے ہی ، ہم بومرز یعنی اپنےہی خلاف بغاوت پر آمادہ ہوگئے تھے، لیکن کیا کریں قائد خود ہی ہمت ہار گئے اور لکھ ڈالا کہ وہ درحقیقت جین زی نہیں جین ڈی (ڈپینڈنٹ)کے نمائندے ہیں۔ان کے والدین نے ہی آرکنساس یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے بھیجا تھا وہی کھانے پینے پڑھنے لکھنے پہننے اوڑھنے کا خرچہ دیتے ہیں۔باقی موصوف معلومات کے لحاظ سے بھی اتنے ہی اچھے ہیں جتنے ان کے والد اداکاری کے لحاظ سے تھے ۔
اگر میری گستاخی معاف کر دیں تو اتنا بتائے دیتا ہوں کہ پاکستانی ہر دو ر میں ہجرت کر کے دیگر ممالک جاتے رہے ہیں۔ان میں سے کچھ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ پاکستانیوں کی باہر بے حد ڈیمانڈ ہے ،اور اگر حکومتی پالیسیوں سے اختلاف ہو تو ملک سے باہر جانا برین ڈرین کہلاتا ہے ،جبکہ باہر رزق کمانے کے لیے جانے والا ان نابغوں کی باتوں پر ہنس رہا ہوتا ہے ،پاکستان میں سب سے زیادہ بڑا برین ڈرین جنرل ضیاالحق کے دور میں ہوا تھا جب لوگ یورپ امریکہ اور خلیجی ممالک ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی نسلیں آج تک بیرون ملک آباد ہیں۔
نابغے نے اپنے آرٹیکل میں امریکی قوم پرست کیون سٹروم کا حوالہ بھی دیا ہے ،یہ وہی کیون سٹروم ہےجو 2008 میں گرفتار ہوا تھا اور سزا یافتہ ہے ، لیکن نابغے کو اس سے کیا لینا دینا اسےتو آرٹیکل سے سروکار،یہی وجہ ہے کہ مضمون اخبار سے ہٹوایا گیا ۔نابغے کے والد اور والدہ کو فوری بیان دینا اوروضاحتیں کرنی پڑیں ۔باقی ہمیں نابغے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ہمارا اعتراض صرف اتنا ہے کہ جنریشن ڈی یعنی باپ دادا پر ڈپینڈنٹ کوئی بھی نابغہ خود کو پاکستانی جین زی کا نمائندہ نہیں کہہ سکتا ۔
میرے ملک کی جین زی بے حد باصلاحیت اور خود مختار ہے ،یہ کریمنالوجی نہیں پڑھتی ، یہ سائنسدان ،انجینئرز ،ڈاکٹرز ،اے آئی ایکسپرٹ ہیں ۔ ان ہی میں سے کچھ باصلاحیت جین زیز نے مئی 2025 میں بھارت کا سب کچھ جام کر دیا تھا ۔نابغہ اس بات سے واقف ہی نہیں کہ والدین سے خرچ لے کر دانشوری جھاڑنے والا کوئی بھی شخص جین ذی یا الفا کی نمائندگی نہیں کر سکتا اور یہی جنریشن زی کی حقیقی تعریف ہے ۔ باقی موصوف کے اب ویڈیو بیانات بھی منظر عام پر آرہے ہیں اور لوگوں کو یہ بھی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جو کچھ لکھنا چاہ رہے تھے اسے سمجھا نہیں گیا ۔ باب ڈلن کے حوالے بھی دے رہیں ،اور عنقریب ٹک ٹاک پر بھی نظر آئیں گے کہ اتنا ہی مقصد تھا نابغے کا ،باقی رہا جنریشن گیپ تو وہ جب تک دنیا آباد ہے رہے گا۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔