اسلام آباد:پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال اور ان کی نازیبا ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والے ایک بین الاقوامی گینگ کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ڈی جی سائبر کرائم وقارالدین سید کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ گینگ کا مرکز مظفرگڑھ تھا جبکہ گروہ کا مرکزی سرغنہ جرمن شہری ہے، جس کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی اداروں سے رابطے جاری ہیں۔
طلال چوہدری کے مطابق، 23 مئی کو ایک منظم آپریشن میں 2 ملزمان گرفتار کیے گئے اور 10 بچوں کو بازیاب کرایا گیا، جن میں سے 6 کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سپرد کر دیا گیا۔
ڈی جی سائبر کرائم کے مطابق، گروہ نے 6 سے 10 سال کے تقریباً 50 بچوں کی نازیبا ویڈیوز تیار کی تھیں، جنہیں ڈارک ویب سمیت واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے ذریعے بیرونِ ملک فروخت کیا جاتا تھا۔ متاثرہ بچے زیادہ تر غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔
وقارالدین سید نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے بڑی تعداد میں ویڈیوز برآمد کی گئی ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر انٹرپول کے تعاون سے کارروائی کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ بچوں کے جنسی استحصال کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے دیا گیا ہے اور اس کی سزا میں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت ملک بھر میں سائبر کرائم کے دفاتر قائم کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ ایسے جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔