لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے 2020 کے سیالکوٹ لاہور موٹروے زیادتی کیس میں سزا پانے والے دونوں مجرموں کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل تھا، نے ملزمان عابد علی عرف مالی اور شفقت علی عرف بگا کی جانب سے دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ دونوں مجرموں کو مارچ 2021 میں انسداد دہشت گردی عدالت نے سزائے موت، عمر قید اور دیگر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
اپنی اپیلوں میں ملزمان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ کے مقدمے میں متعدد کمزوریاں موجود ہیں اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی اصولوں کے منافی اور حد سے زیادہ سخت ہے۔ تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپیلیں مسترد کر دیں۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف مضبوط اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اور ٹرائل کورٹ نے تمام حقائق اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا تھا، جس میں کسی قسم کی قانونی خامی موجود نہیں۔
یہ مقدمہ ستمبر 2020 میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد ملک بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔ متاثرہ خاتون، جو فرانسیسی شہریت رکھنے والی پاکستانی نژاد تھیں، اپنے تین بچوں کے ہمراہ رات کے وقت سیالکوٹ لاہور موٹروے پر سفر کر رہی تھیں کہ گاڑی میں ایندھن ختم ہونے کے باعث انہیں رکنا پڑا۔ اس دوران ملزمان نے خاتون کو گاڑی سے باہر نکال کر بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد گجر پورہ پولیس نے 9 ستمبر 2020 کو پاکستان پینل کوڈ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اس واقعے نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا تھا۔