Get Alerts

 " بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے":ٹرمپ کا ایران کے خلاف 'جنگِ عظیم' کا عندیہ

 

واشنگٹن/ریاض: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر حملے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے ایران کے خلاف "فیصلہ کن آپریشن" کا بگل بجا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اب خاموش نہیں بیٹھے گا اور ایرانی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کی عسکری طاقت کو کچلنے کے لیے 4 سے 5 ہفتوں کا آپریشنل پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ   "یہ تو ابھی محض ابتدا ہے، حملوں کی وہ اصل اور بڑی لہر جس کا ایران نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا، وہ ابھی آنا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  ممکن ہے کہ ایران میں زمینی فوج بھیجنا ہماری ضرورت بن جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم زمینی فوج نہ بھیجیں، لیکن ہمارے پاس کارروائی کو طویل کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف اپنے اہداف کی ترجیحات بھی گنوا دیں، جن کا مقصد ایران کو دفاعی طور پر مفلوج کرنا ہے۔ ٹرمپ کے بقول ایرانی میزائل پورے خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں اور جدید میزائل ٹیکنالوجی پر کام کر رہا تھا، جسے اب تباہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینا ان کی اولین ترجیح ہے۔

ٹیگز: