تحریر:عمران سعیدمہر
پاکستانی معاشرہ صدیوں سے خاندانی نظام، باہمی احترام اور رشتوں کے تقدس پر قائم رہا ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں اس بنیاد میں دراڑیں پڑتی جا رہی ہیں۔ عدالتوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پانچ سال میں طلاق اور خلع کے کیسز میں تقریباً35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک اجتماعی رویّے کی تبدیلی کی علامت ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات اور فیملی کورٹس کے ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں طلاق یافتہ خواتین کی تعداد تقریباً 4 لاکھ99 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ صرف کراچی کی فیملی عدالتوں میں گزشتہ برس 11 ہزار سے زائد مقدمات دائر کیے گئے، جو2019ء میں 5 ہزار800 تھے۔ لاہور میں ایک سال کے دوران ۱273 طلاق نامے جاری ہوئے، جب کہ پچھلے سال یہ تعداد تقریباً 200تھی۔
یہ اعداد و شمار محض فائلوں کا بوجھ نہیں بلکہ بکھرتے گھروں، ٹوٹتے خوابوں اور کمزور ہوتے اعتماد کی گواہی ہیں۔
سماجی ماہرین کے مطابق اس اضافے کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔پہلی بڑی وجہ عدم برداشت ہے جہاں معمولی اختلاف بھی ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی توقعات کو غیر حقیقی بنا دیا ہے۔ اب رشتے حقیقی قربت سے زیادہ آن لائن تاثر پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف، معاشی دباؤ، بے روزگاری اور مہنگائی نے ازدواجی زندگی میں تناؤ بڑھا دیا ہے۔ جوائنٹ فیملی کے بجائے انفرادی طرزِ زندگی نے بھی مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ اب میاں بیوی اکیلے فیصلے کرتے ہیں، مگر غلطی کی صورت میں سہارا کم ہوتا ہے۔
نوجوان نسل کو تعلیم تو دی جارہی ہے مگر تعلق نبھانے کا فن کوئی نہیں سکھا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ خلع اور طلاق اب کسی ناکامی کے بجائے ایک معمول بنتی جا رہی ہے ۔اور یہ معمول معاشرے کے لیے غیر معمولی خطرہ ہے۔طلاق یا خلع کے بعد سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہوتے ہیں۔ عورت کے لیے سماجی دباؤ، مالی مشکلات اور نفسیاتی اثرات ایک نیا امتحان بن جاتے ہیں۔
بچے اکثر والدین کی علیحدگی کے بعد احساسِ محرومی، خوف اور غیر یقینی کیفیت کا شکار رہتے ہیں، جو ان کی شخصیت پر دیرپا اثر ڈالتی ہے۔سماج میں بھی خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہے ۔رشتہ داریاں رسمی، اور تعلقات وقتی ہوتے جا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس رجحان کو محض عددی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔
شادی سے پہلے مشاورت کو عام کیا جائے تاکہ جوڑے ایک دوسرے کی توقعات، رویّے اور ذمہ داریاں سمجھ سکیں۔فیملی عدالتوں میں مفاہمتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں جوڑوں کی ری کونسلنگ کا انتظام ہو۔میڈیا اور تعلیمی ادارے خاندانی استحکام پر شعور اجاگر کریں۔
حکومت کی سطح پر معاشی و قانونی تحفظ کے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ علیحدگی کی صورت میں خواتین اور بچوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔رشتے جب ٹوٹتے ہیں تو صرف دو افراد نہیں، پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔طلاق یا خلع بعض اوقات ناگزیر ہوتی ہے، مگر اس کی بڑھتی ہوئی رفتار اس بات کا اعلان ہے کہ ہم نے برداشت، گفت و شنید اور ایثار جیسے اوصاف کہیں پیچھے چھوڑ دیے ہیں۔اگر ہم نے آج اس بگڑتے رجحان پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسل ایک ایسے معاشرے میں سانس لے گی جہاں رشتے کاغذی اور احساس مصنوعی ہوں گے۔
عمران سعیدمہر، کی عملی صحافت ایک دہائی سے زائدعرصے پر محیط ہے۔وہ پاکستان میڈیا انڈسٹری کا جانا پہچانا نام ہیں۔ اور مختلف نیوز چینلز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔عمران مہر نہ صرف نیوز روم کی صحافت پر عبور رکھتے ہیں بلکہ وہ بلاگر اور ولاگر بھی ہیں۔ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سےمختلف سیاسی و سماجی موضوعات پر اپنی تحریریں اور ولاگ قارئین اور ناظرین تک پہنچاتے ہیں۔