کابل : افغانستان میں گزشتہ شب آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اب تک 1411 افراد جاں بحق اور 3251 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 8 ہزار سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق زلزلے سے ملک بھر میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں اور کئی علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ یہ زلزلہ حالیہ برسوں میں افغانستان میں آنے والی سب سے ہلاکت خیز قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ کنڑ میں ہوا ہے، جبکہ زلزلے کا مرکز ننگرہار کے شہر جلال آباد کے قریب تھا۔ زلزلے کی شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 8 کلومیٹر تھی۔ زلزلہ رات 11 بج کر 47 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کے صرف 20 منٹ بعد ایک اور جھٹکا آیا جس کی شدت 4.5 اور گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔
متاثرہ علاقوں میں زمین لرزنے سے درجنوں دیہات ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں، اور متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ امدادی ٹیمیں محدود وسائل کے ساتھ ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں، تاہم دشوار گزار راستوں اور مواصلاتی نظام کی خرابی امدادی کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرین کے لیے امداد فراہم کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ادارہ جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے۔