اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو چار صفحات پر مشتمل خط لکھا ہے جس نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز اپنی آئینی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے ادا کر رہے ہیں؟
اسی دوران جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا بھی دو صفحات پر مشتمل خط سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ فل کورٹ میٹنگ محض ایک فارمیلٹی کے طور پر بلائی جا رہی ہے۔
یہ خطوط اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر موجود مسائل اور عدالتی نظام کی کارکردگی پر گہرے سوالات اٹھاتے ہیں اور اس حوالے سے آئندہ پیش رفت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔